ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 130 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 130

(المؤمنون :۱۳)۔آیت ۹۔پھر تم نے اس کے بعد ایک بڑی بھاری گستاخی یہ کی کہ تم نے موسیٰ کو یہ کہا۔اے موسیٰ! ہم تجھ پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ تو ہم کو صاف طور پر خدا کا چہرہ نہ دکھلا دے۔پھر تم کو بجلی کے عذاب نے پکڑ کر بیہوش کر دیا اور تمہاری حالت مُردوں جیسی ہو گئی مگر ہم نے پھر تم سے اُس غشی کو دور کر دیا تا کہ تم شکر کرو۔۔ظاہراً۔علانیہ۔بعض طبائع الہامات نبی کو سن کر یہ خواہش کیا کرتی ہیں کہ کاش ہم کو بھی رویاء ، الہام ہونے لگے۔صَاعِقَۃٌ۔ایک قسم کی غشی یا مہلک عذاب۔پھر تمہاری اس خطاء سے بھی در گزر کر کے تم پر یہ اپنا فضل کیا کہ تم کو بلا کسی محنت و مشقت برداشت کرنے کے اعلیٰ درجہ کا کھانا اور تمہاری صحت کے لئے جنگل کی تازہ ہوا دی۔تم کو آزاد کیا تاکہ تم سے غلاموں والی عادتیں دور ہو جائیں او رتم بادشاہ بننے کے قابل ہو جائو مگر تم نے اس کی ناقدری کی اور کفران نعمت کر کے اپنی ہی جان پرظلم کیا۔تم شہروں میں بودو باش کرنے اور اعلیٰ اور بلا مشقت کے کھانا کھانے کو چھوڑ کر لہسن، پیاز اور دالوں کے خواہشمند ہوئے۔آیت ۱۱۔سَلْوٰی۔شہد، بیڑ۔۔جو رزق بلا محنت و مشقت ملے۔۔اٹل، ناگزیر، آسمان سے، بادل سے۔پس پھر جب ہم نے تمہاری خواہش پورا کرنے کے لئے کہا کہ جائو شہروں میں رہو اور بافراغت کھائو اور پیو اور داخل ہو دروازوں میں فرمانبر دار ہو کر دعائیں اور استغفار کرتے ہوئے۔آیت ۱۲۔مگر ظالموں نے ہماری بتلائی ہوئی دعائوں کو تبدیل کر کے کچھ کا کچھ بنا لیا۔پس نازل کیا ہم نے اوپر ان کے عذاب ناگزیر بدلے اس کے کہ وہ فسق کرتے تھے۔