ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 128
آپ نے خالد بن ولید کو دومۃ الجندل بھیجا۔وہاں یہود سے لڑائی ہوئی اورا کیدر یہود کا رئیس اعظم قید ہوگیا۔اکیدر جب آنحضرتؐ کے سامنے لایا گیا اس نے جزیہ منظور کیا اِس واسطے رہا کیاگیا اور بدستور رئیس بنایاگیا۔پھرآنحضرتؐ نے ہرقل کو خط لکھا اور چونکہ بڑا بھاری سفر فوج کو طے کرنا پڑا اور تبوک میں کھانا، چارہ، پانی زیادہ تھا اور نیز ہرقل کی خبر کو جاسوس بھیجے گئے تھے اِس لئے آپ بیس روز وہاں ٹھہرے۔تبوک نصف راہ شام سے تھا وہاں معلوم ہوا ہرقل کو اندرونی مشکلات ایسے آپڑے ہیں کہ وہ مدینے کو فوج نہیں پہنچا سکتا اِس لئے وہاں سے واپس تشریف لائے۔رکوع ۶ آیت ۱۔کے معنے ہیں بہادر سپاہی اے بہادر سپاہی یعنی اسحق کی اولاد تم میرے وہ احسانات یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہارے بزرگوں پر کئے۔احسان اللہ تعالیٰ نے اس لئے یاد دلائے کہ یہ انسان کا فطری تقاضا ہے کہ جب وہ اپنے محسن کے احسانات یاد کرتا ہے تو خواہ مخواہ اُس کے دل میں اپنے محسن کی محبت پیدا ہوتی ہے اور اس کا دل چاہتا ہے کہ میں بھی اپنے محسن کو کسی طرح سے خوش رکھوں۔اُس کی فرمانبرداری اور اس کا شکریہ ادا کروں کہ شکریہ اور فرمانبرداری میں خدا کی رحمت اور اُس کے فضل کی ترقی کا راز پنہاں ہے۔اس لئے خدا نے فرمایا کہ پھر اگلی آیت میں یہ فرما کر ڈرایا کہ۔ایک طرف تم کو میں اپنے احسانات اس لئے یاد دلاتا ہوں کہ تا تمہاری سوئی ہوئی فطرتیں بیدار ہو کر محسن کے بھیجے ہوئے شخص کو تسلیم کر لیں۔اگر تم میرے بھیجے ہوئے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی اتباع کرو تو یا درکھو کہ جیسی بزرگی میں نے تم کو اپنے اور انبیاء کے قبول کرنے پر دی تھی ویسی اب دوں گا اور تمہارے تمام خوف حزن کے ماتحت دور کر دوں گا لیکن اگر تم اس کی اتباع نہیں کرو گے تو یاد رکھو کہ ایک وہ دن آنے والا ہے کہ