ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 127
اُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَبِمَنْ مَّعَکُمْ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ خَیْرًا اُغْزُوْا بِسْمِ اللّٰہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ لَا تَغْدَرُوْا وَلَا تَغُلُّوْا وَلَا تَقْتُلُوْا وَلِیْدًا وَلَا اِمْرَاَۃً وَلَا کَبِیْرًا فَانِیًا وَلَا مُنْعَزِلًا بِصَوْمَعَۃٍ وَلَا تَقْرَبُوْا نَخْلًا وَلَا تَقْطَعُوْا شَجْرًا وَلَا تَھْدِمُوْا بِنَائً۔۱؎ غرض یہ فوج ظفر مَوج وہاں پہنچی اور موتہ کے لوگ مقابلے کو کھڑے ہوئے۔زید سپہ سالار ماراگیا اور اُس کی جگہ عبداللہ بن رواحہ مقرر ہوا۔پھر جعفرؓ بن ابی طالب علیؓ ابن ابی طالب کے بھائی سپہ سالار ہوئے۔ان کے نصف بدن میں اسّی ۸۰سے زیادہ زخم تھے اور وہ سب آگے کی جانب۔پھر خالد بن ولید سپہ سالار ہوئے اور یہ تدبیر کی کہ میمنہ اور میسرہ اور سائق اور قدام کو بدل دیا۔دشمن نے سمجھا کہ ان کی مدد آگئی ہے۔غرض وہاں مخالف کو شکست ہوئی۔لڑائی میں مخالف ہرقل شاہِ روم کے ماتحت تھے اِس لئے عرب کی طرف روم کا خیال بڑھ گیا۔پہلے بھی وہ فتح عرب کے خواہاں تھے اب وہ خواہش دوبالا ہوگئی۔ہجرت کے نویں سال شام کے تجار سے خبرملی ہرقل ایک لاکھ سپاہ کے ساتھ حملہ آوری کی تیاری کررہا ہے۔جب یہ خبر مدینے میں پہنچی اُن دنوں بڑی گرمی پڑتی تھی۔آپ نے جب کوچ کیا راستے میں اونٹوں کے اوجھ سے پانی میسر ہوتا تھا۔عثمان رضی اللہ عنہ نے اِس جنگ میں ایک ہزار اونٹ مع سازوسامان اور ستر گھوڑے اور دوسَواوقیے چاندی کے بلکہ ہزار اشرفی کا چندہ دیا۔جس پر آپ نے فرمایا لَایَضُرُّ عُثْمَانَ مَاعَمِلَ بَعْدَھَا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا تمام مال واسباب چارہزار درم کا اور عمررضی اللہ عنہ نے نصف مال دیا۔غرض اس جنگ میں عثمان رضی اللہ عنہ کی امداد تہائی لشکر کو کافی تھی۔منافقوں نے لوگوں کو بہت بہکایا۔اِلّا خالص مسلمان جس قدر تھے وہ سب ساتھ ہولئے۔تیس ہزار سپاہ آپ کے ساتھ تھی اور اُس میں دس ہزار گھوڑے تھے۔غرض آپ تبوک پہنچے۔ایلیہ کے رئیس نے ٹیکس منظور کرکے صلح کرلی۔پھر ۱؎ مَیں وصیت کرتاہوں تم کو اللہ کے ساتھ پرہیزگاری کی اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ نیکی کرنے کی راہ خدا میں اللہ کے نام سے اُس شخص کے ساتھ لڑو جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا ہے اور بیوفائی اور سرکشی نہ کرو اور بچے اور عورت اور بڈھے اور عبادت خانے کے گوشہ نشینوں کو نہ مارو اور باغ کے نزدیک نہ جائو اور درخت نہ کاٹو اور مکانات کو نہ ڈھائو۔