ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 126
بات کاتدارک یہ کیا کہ چودہ سَو سپاہیوں کے ساتھ خیبر چل دئیے۔اوّل اسلام نے صلح کا پیغام بھیجا۔جب خیبریوں نے نہ مانا تب اُن پر حملہ کیا۔خیبر میں یہود کے بہت قلعے تھے اور آہستہ آہستہ وہ سب فتح ہوگئے۔آخر بڑا قلعہ القموس نام تھا اُس پر لڑائی ہوئی۔جب وہ فتح ہوا یہود کو شکست کا یقین ہوگیا تب انہوں نے معافی مانگی اور اُن کی درخواست پر معافی دی گئی مگر اُن کی نیک کرداری کی ضمانت (کاسن دی پرسول جلد ۲ صفحہ ۱۹۳، ۱۹۴) جائیداد غیرمنقولہ سے کی گئی اور رسوماتِ مذہبی کی نسبت یہود کو آزادی دی گئی۔چونکہ کوئی باضابطہ ٹیکس اُن پر نہ تھا اور سلطنت کے خرچ میں شرکت اُن پر فرض نہ تھی۔آنحضرتؐ نے اُن کی حفاظت کے معاوضے میں جو اَب ان کو حاصل ہوئی ایک محصول بقدر نصف پیداوار اُن کی اراضی کے اُن پر مقرر کیا اور منقولہ جائیداد جو لڑائی اور محاصرے کے بعد قلعوں سے نکلی اور ضبط ہوئی وہ لشکر اسلام میں سپاہیوں کو تقسیم کی گئی۔پادریوں اور ان کے ممد لوگوں کی یہ روایت غلط ہے کہ کنانہ کو خزائن ودفائن بتانے کے لئے عذاب دیاگیا۔یہاں آنحضرتؐ کو زہر دینے کا منصوبہ ہوا اور اس دغاباز قوم نے گوشت میں زہر ملا کر آپ کو کھلانا چاہا۔اس دعوت میں ایک صحابی اسی زہر سے مَرگئے اور آنحضرتؐ کو زہر کی بڑی تکلیف رہی مگر آپؐ نے اُس عورت کاجرم معاف کیا جس نے زہر دیا تھا۔غزوۂ تبوک۔آنحضرتؐ نے حارث بن عمیرالازدی کو امیربصریٰ کے پاس ایک خط دے کے روانہ کیا۔جب یہ قاصد موتہ نام مقام پر پہنچا تو وہاں کے حاکم شرجیل غسانی عیسائی نے اس قاصد کو مارڈالا (یہ عیسائی صاحبوں کی تہذیب اور خاکساری ہے)۔اِس واقعے کی جب مدینے میں اطلاع ہوئی تو آپؐ نے زید بن حارث کو تین ہزار سپاہ کا افسر بنا کرموتہ کی طرف روانہ کیا اور فرمایا جہاں حارث مارا گیا وہاں جائواور یہ ارشاد فرمایا۔