ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 125 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 125

عدل چھوڑنا اور جرائم کی سزا سے درگزر نہ چاہیے۔یہود نے دغا دی۔بدعہدی کی۔عین شہر کا امن کھودیا۔مسلمانوں کی توحید اور موسیٰ و توریت کی تعظیم کو بت پرست قوم کے مقابلے میں بھولا دیا۔بہرحال مسلمانوں کاحکم قریظہ کی نسبت گرامول کے حکم سے بہت کم تھا جس کے بموجب آئرلینڈ میں شہرورڈہیڈا کے سب باشندے بلافرق تہِ تیغ بے دریغ کئے گئے۔کارلائل لکھتا ہے سچ ہے شریر کا سَومرتبہ قتل ہونا بہتر ہے کہ وہ بے گناہوں کو اغوا کرے۔یہ اسلام کافعل اِس وقت کے مارشل لاء سے بہت نرم تھا اور حضرت دائود ؑکی سزا سے جس میں انہوں نے جیتے آدمی جلتے پزاووں میں جلائے اور پھر ہمیشہ خدا کے مطیع کہلائے نہایت نرم ہے۔غزوۂ خیبر۔غزوۂ احزاب کے بیان میں گزر چکا سلام بن مشکم اور ابن ابی الحقیق اور حیی اور کنانہ اورہوذہ اور ابوعمار خیبر سے قریش پاس پہنچے اور اُن کو اور عرب کے مختلف اقوام غطفان اور فزارہ کو مدینے پر چڑھا لائے۔پھر ابورافع سلام بن مشکم جو یہودیوں کا راس رئیس تھا اپنی ایسی حرکتوں سے مارا گیا اور یہود نے اُس کے جا پر اُسَیْربن رزام یہودی کو اپنا امیر بنایا اور اس نئے امیر نے اپنی بڑائی کے لئے یہ تدبیر نکالی کہ غطفان قبیلے میں پھروں اور اُن کو ہمراہ لے کے اسلامیوں پر چڑھائی کروں۔اسی فکر میں تھا مصلح عالم کو خبر ہوگئی۔آپ نے اپنا سفیر بھیجا۔اُس نے جا کر اس نئے امیر کو فہمائش کی اور ہمراہ لایا۔اِلّا نئے امیر کو پھر ایک خبط سوجھا اور چاہا ان سفیروں کو مارڈالے۔اِس امر کی اطلاع پر عبداللہ انیس نے اُسَیْر کو مارڈالا۔غرض اہل خیبر سے یہ معاملات صادر ہوتے رہے۔علاوہ بریں خیبروالوں سے بنونضیر بنوقینقاع جاملے تھے اُن کے شوروفساد کرنے کے خیال سے آپ نے خیبر کا عزم کیا اور وہاں کی رجز صاف اسباب اور وجہ جنگ کو ظاہر کرتی ہے۔؎ ۱؎ اِنَّ الْأُولٰی قَدْ بَغَوْاعَلَیْنَا اِذَا اَرَادُوْا فِتْنَۃً اَبَیْنَا خیبری اور سب قومیں اسی سازش میں رہتی تھیں کہ مسلمانوں کی بیخ کنی کریں۔۲؎ اسلام نے اِس ۱؎ انہوں نے ہم پر ظلم کیا ہے جب کبھی وہ کسی فتنہ کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم اس کا انکار ہی کرتے رہے ہیں۔(ناشر) ۲؎ وہ صحرائی قومیں اُن کے ساتھ متفق تھیں اور ہمیشہ اُن لوگوں کی یہ حالت تھی۔لُوٹ مار کی۔جب اُدھر سے حملہ ہوا جنگلوں میں بھاگ گئے۔۱۲