ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 11
ایک چھوٹے سے فقرے کے برابر نہیں۔رضی اللہ عنہا نے خُلُقُہُ الْقُرْانُ (مسند احمد بن حنبل مسند النساء حدیث نمبر۲۴۶۰۱)فرما کر یہ سمجھایا کہ آپ کی ۲۳ سالہ سوانح عمری قرآن ہے۔کیسا خوش قسمت ہے وہ انسان جو قرآن شریف کو اس غرض سے پڑھتا ہے کہ اس کی اپنی لائف قرآن شریف کی آیات سے کہاں تک مطابقت رکھتی ہے۔مؤمن اگرچہ کہنے کے لیے ایک نفس واحد ہے مگر بہ اعتبار اپنے جمیع اعضاء کے وہ ایک جماعت کا حکم رکھتا ہے۔عربی میں سر کے درمیانی خط کو مَفرق بھی کہتے ہیں اور مفارق بھی کہتے ہیں۔عاقل بالغ انسان کے اعضا ایسے ہیں جیسے جوارح اللّٰہ ملائکۃ اللّٰہ ہیں۔پس اے انسان کامل! قسم ہے اس قرآن حکمت والے، قرآن محکم کی کہ بے شک تو رسول ہے۔رسول نمونہ ہوتا ہے دنیا کے لیے۔قرآن شریف پڑھنے میں غفلت فرمایا۔اس وقت لوگ سخت غفلت میں ہیں۔اسباب تنعم، اسباب غفلت بہت بڑھ گئے ہیں۔طالب علموں کو اپنے کورس (نصاب) کے پورا کرنے کی ہی فرصت نہیں۔ان کو کب موقع ملتا ہے کہ قرآن شریف پر کچھ غور و فکر کریں۔ان کے والدین کا بھی یوں ہی حال ہے۔نہ تو اپنے بچوں کو قرآن شریف کی طرف متوجہ کرنے کی فرصت ہے نہ خود ان کے اپنے لیے۔بعد سکول کی چھٹی کے ورزش کا شغل ہے قرآن شریف کی طرف توجہ ہو تو کیونکر ہو۔بورڈنگ کے مہتمم اپنے بورڈنگ کے انتظام کو ہی اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔قرآن شریف کی طرف غور و فکر کرنے اور کرانے کی طرف ان کو بھی کم فرصتی اور غفلت ہے۔گدی نشینوں میں غفلت ہے۔علماء میں بھی غفلت ہے۔طالب علموں میں بھی غفلت ہے۔فقراء اور ان کے معتقدین میں بھی غفلت ہے۔امراء میں تو سب سے بڑھ کر غفلت ہے۔(البدر جلد۱۱ نمبر۲۰و۲۱ مؤرخہ ۱۵ ؍ فروری ۱۹۱۲ء صفحہ ۷) روز قیامت سایہ عرش میں آنے والے فرمایا۔یہ کتاب اللہ جلّ شانہٗ جس کو اس کا وارث کرتا ہے پہلے اس کو اپنے نفس پر کچھ ظلم و زبردستی کرکے کتاب پر عمل کرنا پڑتا ہے۔صبح کے وقت سردیوں میں کیسا ٹھنڈا پانی ہوتا ہے، نفس پر ظلم کرکے وضو غسل کرنا پڑتا ہے۔پھر طبیعت خوگیر ہوجاتی ہے تو نیکی سے مزا آنے لگتا ہے۔پھر اور زیادہ ترقی کرتا ہے تو انسان کے لیے نیکی کرنا اور خدا تعالیٰ کی