ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 116 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 116

بباطن کفار کے دوست۔عامّہ عرب میں بعض قومیں اسلام کی ترقی خواہ تھیں جیسے خزاعہ اور بعض دشمن کی فتح کے طالب جیسے بنوبکر۔اور بعض قومیں بالکل خاموش اور حیران تھیں۔آنحضرت ؐ نے مدینہ میں پہنچتے ہی یہود سے ایک عہد کیا جس کا خلاصہ یہ ہے۔یہ فرمان محمد رسول اللہ نے تمام مسلمانوں کو خواہ قریش ہوں خواہ اہل یثرب ( مدینے کا پرانا نام ہے) اور سب لوگوں کو چاہے کسی مذہب اور قوم کے ہوں جنہوں نے مسلمانوں سے صلح و آشتی رکھی ہے لکھ دیا ہے۔صلح اور جنگ کی۔؎۵ حالت سب مسلمانوں کے لئے عام ہوگی اور کسی مسلمان کو یہ اختیار نہ ہوگا کہ اپنے برادرانِ اسلام کے دشمنوں سے صلح یا جنگ کریں۔یہود جو ہماری حکومت اسلامیہ سے تعلق رکھتے ہیں تمام ذلتوں اور اذیتوں سے بچائے جائیں گے اور ہماری امت کے ساتھ متساوی حقوق اُن کو ہماری نصرت اور حمایت اور حسن سلوک کے حاصل رہیں گے۔یہود ان بنی عوف بنی نجار بنی حارث بن حسم بنی غالب بنی اوس اور سب ساکنانِ یثرب مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایک قوم سمجھے جائیں گے اور وہ اپنے اعمال مذہبی کو ویسی آزادی کے ساتھ بجالائیں گے جیسے مسلمان اپنے رسومات دینی کو ادا کرتے ہیں۔یہود کی حفاظت اور حمایت میں جو لوگ ہیں یا جو اُن سے دوستی رکھتے ہیں اُن کو بھی تحفظ اور آزادی حاصل رہے گی۔مجرموں کا تعاقب کیا جائے گا اور ان کو سزا دی جائے گی۔یہود مسلمانوں کی شرکت یثرب کو سب دشمنوں سے بچانے میں کریں گے اور تمام وہ لوگ جو فرمان قبول کریں گے یثرب میں محفوظ و مامون رہیں گے۔مسلمانوں اور یہود کے دوست آشنا کا بھی ویسا ہی اعزاز کیا جاوے گا جیسا خود اُن کا کیا جاوے گا۔سب سچے مسلمان اُس شخص سے بیزار رہیں گے جو کسی گناہ یا ظلم، نااتفاقی یا بغاوت کا مرتکب ہوگا اور کوئی شخص کسی مجرم کی حمایت نہ کرے گا گو وہ کیسا ہی عزیز و قریب ہووے۔آئندہ جو تنازعات اِن لوگوں میں ہوں گے جو اس فرمان کو قبول کریں گے اُن کا فیصلہ خداوندعالَم کے حکم کے موافق رسولؐ اللہ فرمائیں گے۔تھوڑے دنوں بعد یہودان بنی نضیر اور بنی قریظہ اور بنی قینقاع اِس معاہدے میں شامل