ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 115
ان کے متعلق بتلایا گیا ہے کہ وہ کس قسم کی نافرمانیاں ہیں جن میں سے انسان اس حالت میں گرفتار ہوتا ہے۔ان آیات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے حالات بسط کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔کیونکہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی نبوت کا ثبو ت ہے۔توریت کتاب استثناء باب ۱۸ آیت۱۵ ۱ ؎تا ۲۲ جو پیشگوئی درج ہے اس کے ذریعہ سے یہود پر حجت قائم کی گئی ہے کیونکہ یہود جس کتاب کی اشاعت کرتے تھے اس میں یہ پیشگوئی بوضاحت درج ہے۔اس سے یہود پر حجت قائم ہوتی ہے۔( چونکہ ان رکوعوں میں یہود کا خصوصیت سے ذکر ہے اس واسطے یہود کے حالات پر اس جگہ حضرت نے درس میں ایک تقریر فرمائی جس کا مطلب حضرت کی ایک تحریر(ماخوذ از فصل الخطاب صفحہ ۱۱۲ تا ۱۲۲) سے اس جگہ نقل کیا جاتا ہے۔ایڈیٹر ) مدینے کی رونق افروزی کے وقت عرب تین قسم کے لوگ تھے۔کھلے دشمن جیسے قریش اور اُن کے حلیف۔دوسرےؔ معاہدین جیسے یہود کے مختلف قبائل۔تیسرےؔ منافق بظاہر اسلام کے ساتھ اور ۱؎ نوٹ۔۱۵۔خدا وند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گاتم اس کی طرف کان دھریو۔۱۶۔اس سب کی مانند جو تو نے خدا وند اپنے خدا سے حورب میں مجمع کے دن مانگااور کہا کہ ایسا نہ ہو کہ میں خداوند اپنے خدا کی آوازپھر سنوں اور ایسی شدت کی آگ میں پھر دیکھو ں تاکہ میں مرنہ جاؤں۔۱۷۔اور خدا وند نے مجھے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کہا سواچھا کہا۔۱۸۔میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرماؤں گا وہ سب ان سے کہے گا۔۱۹۔اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا۔۲۰۔لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جاوے۔۲۱۔اور اگر تو اپنے دل میں کہے کہ میں کیونکر جانوں کہ یہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں۔۲۲۔تو جان رکھ کہ جب نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خدا وند نے نہیں کہی بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے تو اس سے مت ڈر۔