ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 112 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 112

۔منافقوں کے متعلق جب آگ جلانے کی مثال دی گئی تو بڑبڑانے لگے کہ آگ تو مچھر ہٹانے کے واسطے جلائی جاتی ہے کیا ہم مچھر ہیں جو ہمارے واسطے ایسی مثال پیش کی گئی ہے۔آیت۷۔فَاسِقِیْنَ۔بد عہد۔آیت۸۔۔اس کے حضور حاضر ہونا ہے۔۔متوجہ ہوا۔رکوع ۴ آیت ۱۔۔خَلِیْفَۃً مِّنَ اللّٰہِ۔خدا کی طرف سے بنا ہوا خلیفہ۔خلیفۃ اللہ کے یہ معنے کرنے کہ اللہ کا قائمقام غلط ہیں۔ہم نے کبھی کسی انسان کو انسانوں کی ربوبیت کرتے نہیں دیکھا۔اس واسطے ایسے معنے مشرکانہ ہیں۔خلیفہ وہ ہے جو کسی کے بعد آوے یا کسی کو اپنے پیچھے چھوڑ جائے۔نافذ الحکم اور بادشاہ کو بھی خلیفہ کہتے ہیں۔۔ملائکہ نے پہلے عذر کیا مگر پھر کہا کہ ہم بہرحال حاضر ہیں۔آیت۲۔سوال ہوا کہ اس مقام پر آریہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی ایسی باتیں آدم علیہ السلام کو سکھائیں جو فرشتوں کو معلوم نہ تھیں۔پھر اسے فرشتوں کے سامنے پیش کیا۔جواب۔فرمایا۔فرشتوں کو یا انسان کو جو کچھ ملا ہے سب خدا ہی کی طرف سے ہے۔اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ ہمیں خدا نے کسی بیماری کا ایک نسخہ سکھلا دیا۔دوسرے نہیں جانتے وہ اس میں ہمارے محتاج ہیں جس کو ہم بتائیں وہی جانے۔اسی طرح ملائکہ کو ارشاد ہے کہ تم سب ہماری تعلیم میں محتاج ہو جس کو ہم پڑھائیں وہی پڑھے۔اَسْمَاء۔وہ اسماء کیا تھے جو اللہ تعالیٰ نے آدم کو سکھلائے۔بعض صحابہ نے فرمایا ہے کہ وہ زبان تھی۔بعض نے لکھا ہے کہ وہ اسماء الٰہیہ تھے۔بعض کے نزدیک کلمات دعائیہ تھیمگر ایسی تحقیقاتوں میں تو غل کرنا ایک بے فائدہ کوشش ہے۔