ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 109 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 109

جو کفار ایسے ہیں کہ ان کی سخت دلی اُس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ان کو نصیحت کوئی فائدہ نہیں دیتی۔عذاب الٰہی سے ڈرانا بھی کچھ کار گر نہیں ہوتا۔انہوں نے جن قوتوں سے کام لینے سے انکار کیا ہے وہ قوتیں ان کی چھین لی جاتی ہیں۔ان کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک تحصیلدار اپنے عہدے سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔سرکار کا کام پورا نہیں کرتا تو بالآخر اُسے عہدہ تحصیلداری سے علیحدہ کیا جاتا ہے۔ایسا ہی جو لوگ خدا کی باتوں کو کسی حالت میں نہیں ماننے میں آتے ان کے دلوں او رکانوں پر مُہر ہو جاتی ہے۔پھر کسی بات کا اثر ان پر نہیں ہو سکتا۔جیسا کہ بعض ہندو فقیر اپنا ہاتھ اونچا کرتے ہیں اور اسی طرح رہنے دیتے ہیں او رنیچے نہیں کرتے تو کچھ عرصہ کے بعد پھر وہ ہاتھ وہیں خشک ہو جاتا ہے اور اس میں نیچے آنے کی طاقت رہتی ہی نہیں پھر اگر وہ چاہیں بھی کہ اُسے نیچے کریں تو بھی نہیں کر سکتے۔رکوع دوم آیت ۳۔زَادَ۔چونکہ ان پر یہ ابتلا نئے مسائل کی وجہ سے تھا جو کہ ان کے رسم و رواج یا عام خیالات کے خلاف تھے۔اس واسطے فرمایا کہ ایسے مسائل تو دن بدن بڑھتے جائیں گے۔ابھی قرآن شریف نازل ہو رہا ہے ساتھ ہی ان کا مرض بھی بڑھتا جائے گا۔۔یہ لوگ ہمیشہ دکھ میں رہیں گے کیونکہ مسلمانوں کی فتوحات دن بدن ترقی کریں گی۔آیت ۷۔۔تحقیر کرتے ہیں۔خفیف سمجھتے ہیں۔ہُزُوَ کے معنے ہیں۔تحقیر کرنا۔۴؎ آیت ۹۔۔ان کی تجارت بھی ان کے لئے فائدہ مند نہ ہوئی۔اس کی مثال انگریزوں کے حالات میں خوب پائی جاتی ہے۔کس قدر وسیع تجارت کرتے ہیں۔سب ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔سب زبانیں سیکھتے ہیں۔تمام علوم میں ترقی کرتے ہیں۔لیکن