ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 108
ہے۔وہ تجارت کرتا ہے اس بھائو خریدتا ہے اُس بھائو بیچتا ہے۔بتلائو کیا منافع ہو گا۔یہ سب فرضی باتیں ہیں نہ کوئی شخص ہے، نہ کچھ روپیہ ہے، نہ کوئی تجارت ہے لیکن اسی سے بچہ بڑا حساب دان بن جاتا ہے۔پولیس بھی غیب سے کام چلاتی ہے۔اس کو پکڑو، اس کی تلاشی لو، آخر مقدمہ نکل ہی آتا ہے۔ایسا ہی دعا اور توجہ ہے۔میری تحقیق ہے کہ جو شخص ہدایت کے واسطے دعا نہیں مانگتا وہ کبھی فائدہ نہیں اُٹھاتا۔تیسراگُر کامیابی کا خرچ کرنا ہے۔ہر ایک کام کے واسطے پہلے کچھ خرچ کرنا پڑتا ہے پھر اتنا ہی نفع ہوتا ہے۔ریل بنائی جاتی ہے۔ایک میل پر ایک لاکھ روپے کے خرچ کا اندازہ ہوتا ہے۔جب یہ خرچ ہو چکتا ہے توپھر آمدنی بھی کروڑوں کی ہوتی ہے۔۔پہلے لوگوں کو جو ہدایت نامے آئے وہ سب قرآن شریف میں موجود ہیں۔ہمیں کیا معلوم ہے کہ جہان کب سے ہے اور خدا کے نبیوں اور رسولوں او رکتابوں کا کیا شمار ہے۔یسوعی لوگ دنیا کی عمر پانچ چھ ہزار سال قرار دیتے ہیں اور آریہ لوگ بھی کچھ ہندسے لکھ کر دنیا کی عمر قرار دیتے ہیں مگر قرآن شریف نے کوئی حد بندی نہیں کی۔ہاں اُن تمام مشترکہ ہدایت کی باتوں کو جو پہلوں پر نازل ہوئیں اور ہمارے لئے ضروری ہیں اس پاک کتاب میں جمع کر دیا ہے۔آیت۵۔مُفْلِحُوْنَ۔مظفر و منصور کا میاب۔یہ ہدایت یافتوں کا نشان ہے۔اگر آجکل مسلمان ہدایت پر ہوتے تو وہ ایسے ذلیل و حقیر نہ بنتے بلکہ اپنے ہر کام میں مظفر و منصور ہوتے۔آیت ۶۔کفار تین قسم کے ہوتے ہیں۔(۱) وہ جو بات کو سنتے ہی نہیں اور انکار کرتے چلے جاتے ہیں۔(۲) و ہ جو بات کو سن تو لیتے ہیں مگر کچھ توجہ نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہاں ایسی باتیں سنا ہی کرتے ہیں۔اور یہ دلیلیں سنی ہوئی ہیں۔کچھ قابل توجہ نہیں۔(۳) تیسرے وہ جو توجہ کرتے ہیں مگر اچھی چیز کو سمجھ کر بھی قبول نہیں کرتے۔