ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 107
سامنے کتاب پیش کرنا کوئی آسان امر نہ تھا۔عوام کے سامنے پیش کر لینا اور کہہ دینا کہ یہ خدا کا کلام ہے آسان امر ہے مگر خداکے نبی اور پھر خاتم النبیین کے سامنے بائبل یا اس کے اجزاء رکھے جاتے تو ساری قلعی کھل جاتی۔آخر انبیاء اور ان کے انکشاف کی کہانیاں تو انہوں نے سنی ہوئی تھیں۔جرأت ہی نہ ہوئی کہ کوئی کتاب افضل الرسل کے سامنے پیش کرے۔مدعی بنیں کہ یہ خدا کا کلام ہے۔ایڈیٹر) ۔نہ اس کتاب میں کوئی ہلاکت کی بات ہے اور نہ کوئی شک و شبہ کی جگہ ہے۔کتاب کی تو یہی حالت ہے باقی کوئی اور آدمی شکی ہواس کے لئے جواب موجود۔( دیکھو کو )۔۔یہ وہ ہدایت ہے جسے سورۂ فاتحہ میں طلب کیا گیا تھا۔اسے سیکھو اور اس پر عمل کرو۔اس راہ پر چلو یہ خدا نے تمہارے لئے بنایا ہے۔مُتَّقِیْن۔تمہاری دعا قبول ہوئی۔خدا نے متقی بننے کا طریقہ بتلا دیا۔پہلے جس قدر متقی دنیا میں گزرے اور جو آئندہ متقی ہوں گے ان کے طریق بھی سب اس میں درج کئے گئے۔یہ کامل ہدایت نامہ ہے۔فرمایا اللہ تعالیٰ نے(النساء : ۲۷) اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ پہلے نیک لوگوں کی راہیں تم پر ظاہر کرے اور ان پر تجھے چلائے اور تم پر رجوع برحمت ہو۔اللہ تعالیٰ کو سب علم ہے کہ پہلے لوگوں کی کیا راہیں تھیں اور وہ اپنی حکمت کا ملہ سے اُنہیں تم پر کھولتا ہے۔۔اس آیت شریفہ میں کامیابی کے تین اصول بتلائے گئے ہیں۔ایمان۱ بالغیب ، د۲عا اور اللہ کی ۳راہ میں خرچ کرنا۔دراصل ہر ایک کام جس کو انسان اختیار کرے اس میں انسان تب ہی کامیاب ہو سکتا ہے جبکہ یہ تین کام کرے۔سب سے اوّل غیب سے کام لیا جاتا ہے۔تمام ریاضی کی بنیاد غیب پر ہے۔نقطہ، دائرہ اور خط سب فرضی ہوتے ہیں اور اسی پر سب ریاضی کا علم بنتا ہے۔علم حساب بھی فرضی باتوں سے شروع ہوتا ہے۔لڑکوں کو سوال حل کرنے کے لئے دیا جاتا ہے کہ ایک شخص کے پاس دس ہزار روپیہ