ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 106 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 106

راہ نکلتی ہے۔آنحضرت ﷺ تک کو تو حکم ہوتا ہے کہ  (طٰہٰ : ۱۱۵)دعا مانگ کہ اے ربّ میرا علم بڑھا۔جب یہ دعا آپ کی ہے ﷺ تو ہم کون ہیں جو کامل ہو چکے۔یہ سب صراط مستقیم ہے۔فطرت انسانی انسان کی منی کے ان کیڑوں میں جو کچھ بننے والے ہوتے ہیں تین صفات عجیبہ پائے جاتے ہیں۔(۱) چلنے میں انحراف نہیں کرتے۔ادھر اُدھر نہیں ہوتے سیدھا چلتے ہیں۔(۲) پیچھے نہیں ہٹتے۔(۳) ان کا ایک انتہائی مقصد ہوتا ہے کہ انڈے کے اندر گھس جائیں۔اس مقصد کو نہیں چھوڑتے۔ان ہر سہ باتوں کی ہم کو اب بھی ضرورت ہے۔انسان کی ترقی اگر ہر آن جاری نہ رہے تو وہ مر جاتا ہے۔ہر آن دوران خون کے چلتا رہنے کی ضرورت ہے جو انسان کل تھا وہ آج نہیں۔ہر آن جسم میں ایک تغیر ہے۔ہم بچے تھے، جوان ہوئے، اب بوڑھے ہو گئے۔وہ جسم جو بچپن میں تھا وہ کہاں ہے۔اسی طرح ہر وقت علم میں بھی ترقی چاہئے۔کل والا علم آج کے واسطے بس نہیں اور اسی طرح عمل میں ترقی ضروری ہے۔سورۃ البقرۃ پارہ اوّل۔رکوع اوّل  یہ کی دعا کا جواب ہے۔آنحضرت ﷺ نے یہ ایک ہی کتاب دیکھی، لکھی، پڑھی، پڑھائی ، سنی اور سنائی۔اس کے سوائے آپ نے کوئی اور کتاب نہ دیکھی۔یہود و نصاریٰ کو کہا گیا تھا۔(الصافات:۱۵۸) مگر کوئی نہ لایا۔(اور لاتے کہاں سے۔ان کے پاس کوئی کتاب اپنی اصلی حالت پر موجود تو تھی ہی نہیں۔نبی کے