ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 318
نے جاری کی ہیں۔جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت جلد مہمان خانہ کی اصلاح اور مدرسہ احمدیہ میں طالب علموں کی نشست وغیرہ کے لئے ضروری سامان کی بہم رسانی عمل میں آئے گی۔آپ نے مہمان خانہ کی جدید تعمیر کے متعلق مولوی محمد علی صاحب کو فرمایا ہے کہ ہماری زندگی میں تعمیر کرا دو تا کہ ہم دیکھ لیں۔شرح بسط ناظرین کو معلوم ہو گا کہ حضرت نے فرمایا تھا کہ میرا نام آسمان پر عبد الباسط ہے۔آپ کے حالات میں ہر چیز کے بسط کے نظارے تو بارہا دیکھے گئے ہیں مگر چونکہ یہاں صرف واقعات ایام علالت کا ذکر ہے اس لئے ان کا ہی ذکر کرنا چاہئے۔کچھ دن گزرے کہ آپ کی طبیعت اچار کی طرف متوجہ ہوئی اور زمین قند کے اچار کو آپ نے چاہا اس خواہش کے اظہار پر کثرت سے نہ صرف اچار بلکہ مختلف قسم کے اچار آنے لگے۔اس پر آپ نے فرمایا۔میرے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا بسط کیا ہے۔جس چیز کی خواہش میرے دل میں آتی ہے وہی کثرت سے مہیا ہو جاتی ہے۔یہ اس کا رحم اور غریب نوازی ہے۔لَا یَخَافُ عُقْبَھَا ایک مخالف کے لڑکے کا ذکر تھا وہ اپنی تعلیم کے سلسلہ کو جاری رکھنے کی خاطر اعانت چاہتا تھا۔ایڈیٹر الحکم کو مخاطب کر کے فرمایا۔اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔خدا کے ماموروں پر نکتہ چینی کا نتیجہ کبھی مبارک نہیں ہوتا۔حضرت مرزا صاحب کی ذریّت پر اعتراض کا یہ وبال ہے اور اگر غور کیا جاوے تو اسی دن سے یہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جب اس نے اعتراض کیا۔قرآن مجید میں مرد صالح کی اولاد کے متعلق ایک واقعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو راستبازوں کو جن میں ایک عظیم الشان نبی تھا ان کی دیوار کو درست کرنے کے لئے بھیج دیا اور فرمایا (الکھف:۸۳) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان بچوں میں کوئی کمزوریاں ہوں گی۔مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی صلاحیت اور نیکو کاری کے باعث ان بچوں کی پردہ پوشی بھی کی