ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 317
صاحب کو حکم دیا ہے کہ وہ بعد عصر قرآن مجید کا درس دیا کریں اور اگر وہ کسی وجہ سے نہ دے سکیں (کیونکہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی طبیعت بھی قدرے ناساز رہتی ہے) تو پھر مولوی سید سرور شاہ صاحب اور اگر وہ بھی نہ دے سکیں تو قاضی مولوی سید امیر حسین صاحب درس دیں۔آج ۱۳؍ فروری ۱۹۱۱ء سے بعد عصر مولوی سید سرور شاہ صاحب قرآن مجید کا درس شروع کریں گے۔وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔تقرب الی اللہ کی راہ ڈھونڈو جنّ کے متعلق مندرجہ بالا تقریر بیان کر کے فرمایا کہ قرآن مجید میں جو احکام ہیں ان پر بھی فقہ کی کتابیں لکھی گئی ہیں۔اور ایسے سوالات لوگ کرتے ہیں جن کا کوئی تعلق قرب الٰہی کی راہوں سے نہیں ہوتا۔مثلاً آدم پہلے کیونکر پیدا ہوا؟ پھر اس کی بیوی کیسے پیدا ہوئی؟ نکاح کیسے ہوئے تھے؟ وغیرہ۔ایک لمبا سلسلہ ایسے سوالات کا ہوتا ہے ان کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان راہوں کو تلاش کیا جاوے جو اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہیں ہیں۔بہت ہی تھوڑے آدمی ہوتے ہیں جو ان باتوں پر توجہ کرتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ان باتوں پر غور کریں۔قرآن مجید کی خاص عظمت حضرت کے دل میں قرآن مجید کی عظمت جس درجہ پر ہے، اس کا اظہار کسی قدر اس امر سے ہو سکتا ہے کہ آپ جب قرآن مجید سنتے ہیں علی العموم حافظ قرآن کو کرسی پر یا اپنے برابر چارپائی پر بٹھا لیتے ہیں۔ایک روز اللہ تعالیٰ نے رؤیا میں آپ کو مدرسہ دینی کے بعض حالات سے اطلاع دی۔آپ نے اسی وقت توجہ کرنے کا حکم دیا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ عظمت قرآن کو کس طرح پر قائم کرنا چاہتے ہیں۔لنگر خانہ کی طرف توجہ حضرت خلیفۃ المسیح کے دل میں اللہ تعالیٰ نے لنگر خانہ اور مہمان خانہ کی طرف توجہ کو مبذول فرمایا ہے۔آپ نے جدید مہمان خانہ تیار کرنے کے لئے حکم دیا ہے اور بعض ضروری اصلاحوں کے لئے ہدایات آپ