ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 92
کی روایت …سماع ابوہریرہ سے جب تک ثابت نہ ہو۔یہ حدیث قابل استدلال نہیں۔سوچ کر جواب دو۔نابالغ لڑکی کا نکاح سوال۔شرع محمدی کی کتابوں میں ایک مسئلہ ہے کہ اگر کسی نابالغ لڑکی کا نکاح اس کی ایام نابالغی میں اس کا والد یا دادا کر دے تو وہ نکاح ہمیشہ کے لئے مستحکم رہتا ہے اور اگر کسی دوسرے شخص نے نابالغہ کا نکاح کر دیا ہو تو لڑکی کو بالغ ہو کر اپنے نکاح کی تنسیخ کا اختیار رہتا ہے۔مجھ کو دریافت صرف یہ کرنا ہے کہ یہ اصول علماء نے کہاں سے لیا ہے؟ جواب۔اس مسئلہ کی بنا کسی حدیث یا آیت پر ہرگز نہیں۔صرف ایک عقلی دلیل پر ہے اور وہ عقلی نہیں بلکہ خیالی ہے کہ باپ بہرحال بھلائی چاہتا ہے اس پر بدگمانی نہیں ہو سکتی۔صحیح بات میری تحقیق کی یہ ہے کہ عورت کی رضامندی اور والیوں کی رضامندی اور شرعی اجازت سے نکاح ہو سکتا ہے۔والد بجائے والیوں کے بادشاہ وقت کر دے۔( البدر جلد ۸ نمبر ۲۴،۲۵ مورخہ ۸۔۱۵؍اپریل ۱۹۰۹ء صفحہ ۳) مکتوبات امیر المومنین (۱) بحضور امیر المومنین و خلیفۃ المسلمین السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ و مغفرتہ و طیب صلاتہ مجھ کو ایک صاحب لکھتے ہیں کہ بموجب آیت الخ(البقرۃ:۱۸۵) فدیہ کا حکم ابتدائے اسلام میں تھا۔پھر جب سے یہ آیت نازل ہوئی کہ الخ(البقرۃ:۱۸۶) اُس وقت سے اس آیت کا حکم صرف شیخ فانی وحاملہ و مرضع کے لئے باقی رہ گیا۔مریض ومسافر اور حیض و نفاس والی کو قضا لازم ہو گئی فدیہ نہ رہا۔آپ لوگ اسی کو مانتے ہیں یا کیا ؟ شیخ فانی کے لئے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عملدرآمد اور ضعیفہ و حاملہ