ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 89
موزوں کلام مثلاً شعر غزل ٹھمری وغیرہ سے رقت پیدا کرتے ہیں اور ایک وقت تک اُس کے اثر سے متاثر بھی ہوتے ہیں۔بعض حزب البحر اور درود مغنی اور درود تاج وغیرہ وظائف بڑے اہتمام سے پڑھتے ہیں اور وظائف ہی کے ذریعہ خدا تعالیٰ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔اب ان سب گروہوں کے حالات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نفس کی مخالفت کا اصل اصول قریباً سب میں پایا جاتا ہے۔ا ن سب کے سوا اور ان سب کے خلاف ایک انبیاء علیہم السلام کا گروہ ہے۔وہ صرف احکام خداوندی کی پابندی اور فرمانبرداری کرتے ہیں۔اُن کو اس کی مطلق بھی پرواہ نہیں ہوتی کہ نفس کی مخالفت ہے یا موافقت۔جو خدا کا حکم ہوتا ہے اُس پر عمل کرتے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کا کوئی ایسا حکم آ گیا کہ جس میں نفس کی مخالفت ہوتی ہو تو اُس پر بھی بڑی خوشی سے عمل کرتے ہیں۔اور اگر کوئی ایسا حکم آ گیا کہ اس میں نفس کی موافقت ہے تو اُس پر بھی عمل کرتے ہیں۔جب تک شراب کی ممانعت کا حکم نہیں آیا تو شراب کو منع نہیں کیا۔جب حکم آ گیا تو منع کیا۔جب تک جوئے کی ممانعت کا حکم نہیں آیا تو منع نہیں کیا جب ممانعت کا حکم آ گیا تو منع کیا۔وغیرہ و غیرہ۔(الحکم جلد ۱۳ نمبر ۱۴ مورخہ۱۴؍اپریل ۱۹۰۹ء صفحہ ۱۳،۱۴) مکتوبات امیر المومنین ۱۔کیا ہندوؤں سے چھوت چھات کا سلوک کیا جائے؟ ایک شخص نے سوال کیا کہ جب ہندو ہم سے چھوت چھات کرتے ہیں تو کیوں نہ ہم بھی ان سے ایسا ہی سلوک کریں؟ اس کے جواب میں ارشاد فرمایا۔خود نبی کریم ؐ اور صحابہ کرام اور آج تک اسلام کا معمول ہے کہ کفار کے کھانے اور پانی سے انہوں نے تنفر نہیں کیا۔حلت و حرمت کا فتویٰ آسان نہیں۔اللہ تعالیٰ (النحل:۱۱۷) فرماتا ہے اس لئے میں تو خلاف تعامل اسلام ہرگز رائے نہیں دیتا۔مسلمان ہمت و استقلال و اتحادمیں تجربہ سے پیچھے ہیں۔پس یہ کوشش چند اں بابرکت نہیں۔پھر ہم نے یہ بھی دیکھنا