ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 88
انشاء اللہ کہنے کی نصیحت برادرم عبدالحی کے اُستاد سید محمد شفیع صاحب نے کہیں سبق پڑھاتے ہوئے عبدالحی صاحب سے کہہ دیا کہ میں ایک مہینہ میں …سورۂ بقر تم کو ضرور حفظ یاد کر ادوں گا۔یہ الفاظ جب حضورامیر علیہ السلام نے سنے تو فرمایا۔جو لوگ دعوے سے کہا کرتے ہیں کہ ہم فلاں کام ضرور کر لیں گے اور پھر انشاء اللہ تعالیٰ بھی نہیں کہتے ہم نے دیکھا ہے کہ وہ ناکام ہی رہتے ہیں۔ہم نے بھی عبدالحی سے کہا ہے کہ اگر تم سورئہ بقر ہم کو حفظ سنا دو گے تو ہم انشاء اللہ تعالیٰ ایک بہت بڑی ضیافت کریں گے۔لیکن دیکھو ہم نے لفظ اگر بھی ساتھ لگا دیا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ بھی کہہ دیا ہے( اسی جلسہ میں سید محمد شفیع صاحب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ) سید صاحب یہاں دین سیکھنے کے لئے آئے ہیں عبدالحی کو قرآن شریف پڑھاتے ہوئے ان کو بھی انشاء اللہ تعالیٰ بہت کچھ دینی فائدہ حاصل ہو جائے گا۔تعلق باللہ کے لئے لوگوں کی مساعی اور انبیاء کا طریق ۱۷؍نومبر ۱۹۰۸ء بوقت صبح بعد نماز فجرقائم گنج سے آئے ہوئے ایک سفید ریش پٹھان مہمان کو مخاطب کر کے فرمایا۔خدا تعالیٰ تک پہنچنے اور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے لئے لوگوں نے بڑی بڑی اور قسم قسم کی کوششیں کی ہیں۔بعض ہندوئوں نے اپنے جسموں کو برف میں گلا دیا۔بعض صبح سے شام تک سورج ہی کو تکتے رہتے ہیں۔بعض دن رات برابر کھڑے ہی رہتے ہیں۔بعض اپنے ہاتھ یا پائوں وغیرہ اعضاء خشک کر لیتے ہیں۔بعض اپنے عضو تناسل کو کاٹ ڈالتے ہیں۔سب کی غرض یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو اور اُس سے تعلق۔پھر ایک دوسری قسم کے لوگ ہوتے ہیں وہ بعض اولیاء کے ملفوظات پڑھتے ہیں۔ان کے پڑھنے سے قلب میں ایک رقت پیدا ہوتی ہے اور انہیں میں سے اس بزرگ کا کوئی وظیفہ یا مجاہدہ بھی کبھی کبھی انسان اپنے لئے منتخب کر لیتا ہے۔بعض ایسے ہوتے ہیں کہ کسی