ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 8
ان سب کا الگ الگ زمانوں میں ظاہر ہونا اس واسطے ہوتا ہے کہ اگر تمام دنیا ایک ہی وقت میں باخدا اور مقرب بن جاوے تو پھر آئندہ خدا کی صفات اور ربوبیت معطل اور بے کار ہو جاتی ہیں۔نیز ایک خاص وقت کی پاکیزگی ہمیشہ تک کے واسطے کافی نہیں ہو سکتی بلکہ جس طرح ہر زمانہ میں جسمانی ضروریات کے واسطے نئے نئے اور تازہ بتازہ سامان قدرت نے مہیا کئے ہیں اسی طرح سے روحانی سلسلہ کے واسطے بھی روحانی زندگی اور پاکیزگی کے سامانوں کی ہمیشہ تازہ بتازہ ضرورت ہوتی ہے۔سو اس طرح سے اگر ایک ہی وقت میں تمام کچھ جو ہونا تھا ہو چکا ہوتا تو اس میں بہت نقص لازم آتا تھا دوسری بات یہ ہے کہ بنے ہوئے ہی کو نہیں بنایا جاتا بلکہ دوسروں کو بنایا جاتا اور جو مردہ ہوتے ہیں اور روحانی ترقیات کے محتاج ہوتے ہیں ان کو زندہ کر کے ترقیات بخشی جاتی ہیں۔حضرت اقدس ؑ کے پیش نظر بھی ایک وفات کا مسئلہ ہی تھا یعنی وفات مسیح کا ثابت کرنا۔اب ہمارے آگے بھی وہی وفات ہی کا جھگڑا ہے اور ہے بھی وفات مسیح ہی کا۔فرق ہے تو صر ف اتنا کہ وہاں تو نفس موت سے ہی انکار تھا مگر یہاں وقت اور بے وقت کا جھگڑا ہے مگر اس اختلافی امر پر ایک عقل مند سمجھ دار انسان کے واسطے حق کے پانے اور اس امر کے جانچنے کی کہ آیا کوئی صادق اور حق پر ہے ایک راہ کھلی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپؑ کی وفات پر ہم لوگوں نے بھی ایک نمونہ دکھایا ہے اور ہمارے مخالفوں نے بھی اپنی کرتوت بتا دی ہے۔دشمن نے کیا کیا؟ سوانگ نکالے خود مردہ بنے اور اپنے ہی منہ کالے کئے۔ایک ایسے شخص کو جو ملاں ڈپھل کے مجہول نام سے مشہور ہے اور جس نے خود اپنے نام کے ساتھ زٹلّی کا لفظ لگایا ہوا ہے قومی پیشوائی کے اعزاز کا تمغہ دیا وغیرہ وغیرہ۔مگر اس کے مقابل پر ہماری جماعت نے کیسا پاک نمونہ دکھایا کہ ایسے نازک وقت میں صبر، استقلال اور نر می سے کام لیا۔کسی نے جزع فزع نہیں کی، کسی نے بے صبری اور گھبراہٹ کاکوئی نمونہ نہیں دکھایا بلکہ سب نے بڑے ثبات ہمت سے خدائی امتحان کو قبول کیا اور کوئی کمزوری قولاً فعلاً نہیں دکھائی۔