ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 73
اعتراض کیا ہے اگر کیا ہے۔کیا یہ معلوم نہیں کہ مدرسہ کے طلباء اور بعض نابینا یہاں ہیں اور ان پر معقول خرچ ہوتا ہے جن میں ممکن ہے معترض بھی ہو۔وہ سترہ کے قریب ہیں۔یہاں سے روٹی اور معقول کپڑا لے کر بھی اعتراض کرتے ہیں۔ششم۔غلام محمد اور فتح محمد یہاں نہیں پڑھے؟ الجواب۔یہ مدعی سست اور گواہ چست والا معاملہ ہے۔معترض نہیں بتاسکتا کہ پھر انہوں نے اس قدر تعلیم کہاں پائی؟ اگر کالجی تعلیم یہاں نہیں پاسکتے تو کالج کی تعلیم کے لئے روپیہ کہاں سے لیا؟ ہفتم۔دینیات کی تعلیم پانے والوں کے صابون اور حجام ندارد ہے؟ الجواب۔معترضین خود ہی بتائیں کہ وہ کہاں سے لاتے ہیں؟ ہشتم۔تین برس میں اعلیٰ عربی دان تیار ہونے چاہئیں؟ الجواب۔ہم تو چاہتے ہیں کہ اس سے بھی کم میں ہو مگر کوئی نمونہ دکھائے کہ الف، با،تاشروع کرکے تین سال میں کوئی فاضل ہوگیا ہو۔معترضین نے کبھی فائدہ نہیں اٹھایا آخر میں پھر نصیحت کی جاتی ہے کہ نکتہ چین اور نرے اعتراض کرنے والے نے کبھی فائدہ نہیں اٹھایا۔اوّل عیسائیوں کی قوم ہے جس نے آدمؑ سے لے کر نبی کریم تک کو بُرا بنایا۔یہودی پہلے سے اور مسلمان تیرہ سو برس سے جواب دیتے آئے مگر بتاؤ عیسائیوں کو کچھ فائدہ ہوا؟ پھر شیعہ صحابہ کرام پر، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ دین پر اعتراض کرتے رہے اور خاموش نہیں ہوئے حتیٰ کہ بخاری میں ہے کہ ابن عمر کے سامنے حضرت عثمان پر اعتراض کئے۔ان دو کے بعد آریہ نے اسی عیب چینی کے لئے کمر باندھی مگر کسی مسلمان نے ان کو بند کردیا کہ ان کو سخن چینی سے روک دیا ہو؟ پس ایسے معترض عیسائیوں، آریوں اور شیعوں کی اتباع نہ کریں۔یہ راہ بہت خطرناک ہے اور نہایت کٹھن اور غالباً غیر مفید ہے۔تعلیم اسلام جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہم اسی طرح کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ موفق ہے۔۱۲؍ جنوری ۱۹۰۹ء (الحکم جلد ۱۳ نمبر ۲ مورخہ ۱۴؍جنوری۱۹۰۹ء صفحہ ۲تا۷)