ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 70
ہے اور روپیہ ان ضروری کاموں کے لئے بھی کافی نہیں ہے جو حضرت صاحب کے وقت اس کے مصارف تھے۔مثلاً میگزین، لنگر، ہائی سکول اور واعظ، بڑی مسجد اور ہائی سکول یا کالج کی عمارت اور واعظوں کا خرچ، جب یہی پورے نہیں ہوتے جن کو حضرت صاحب نے قائم کیا تھا تو ہم عربی کا ایک بڑا مدرسہ جو اپنی ذات میں بڑے خرچ چاہتا ہے اور دیکھ لو کہ ندوۃ العلماء اور دیوبند، الٰہیات کا مدرسہ کانپور اور انجمن نعمانیہ جو ان کاموں کے لئے وقف ہیں۔ان کے مہتمموں کو کیسی کیسی مشکلات کا آئے دن سامنا کرنا پڑتا ہے۔اب قبل اس کے کہ اس مضمون کو ختم کروں۔ایک سوال کا حل کرنا کسی قدر ضروری ہے کہ اگر تمہارے ہاں کوئی سکول عربی کا جس میں یہ زواہد ثلاثہ اور حمداللہ قاضی نہیں پڑھائے جاتے تو تم کیا کرتے اور ان چندوں سے تم کیا کام لیتے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم قوم میں وحدت اور اتحاد اور ان سے کلمہ شہادت کا اقرار، توبہ اور استغفار کراتے ہیں اور ان کو تاکید کرتے ہیں کہ تم استغفار، توحید، لاحول، الحمد، درود شریف اور نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ کی پابندی کرو اور بتدریج اخلاق فاضلہ کی طرف قدم مارو اور بدیوں کو ترک کرو۔ہمارا خطبہ جو اس جلسہ میں ہوا ہے وہ ہماری ایک روزانہ کارروائی کا نمونہ تھا اور ہم اپنی جماعت کے لئے خصوصیت سے تڑپ تڑپ کر دُعائیں مانگتے ہیں کہ ان میں ترقی واستقامت ہو اور آفات ارضیہ و سماویہ سے محفوظ رہ کر دین کے خادم بنیں۔کوئی مخفی وظیفہ کوئی مخفی ہدایت کوئی مخفی تعلیم اس سادہ تعلیم کے سوا نہیں کرتے اور نہ قادیان کا مدرسہ سردست کسی اور تعلیم کا دعویٰ کرتا ہے۔یہاں لوگ آئیں اور باہم محبت پیدا کریں۔ہم سے ملیں۔ہماری سادہ تعلیم جو تمام انبیاء کا مشترکہ خزانہ ہے اس کو لے جاویں، کوئی چندہ ہم یونیورسٹی کو اس کے پورا کرانے کے لئے نہ سردست مانگتے ہیں نہ اس کے مدعی ہیں۔ہمارے میاں محمد لودہانوی اور بھی ایسے گواہ ہیں کہ انہوں نے حضرت صاحب کے زمانہ میں یہ کہا تھا کہ آپ کو روپیہ کی ضرورت ہو تو آپ مجھ سے مانگ لیا کریں مگر ہم نے ان کو بھی یہی جواب دیا