ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 69 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 69

یہ فیصلہ کرلیا کہ وہ انعام عنقریب اسے دے ہی دیں گے اور ادھر خدا تعالیٰ نے یہ سامان کردیا کہ حکیم فضل دین نے مجھے کہا کہ آپ کے دو سو دس روپیہ میرے ذمہ ہیں عنقریب دے دوں گا۔پس جو لوگ ایسا خیال کرتے ہیں کہ ان کا روپیہ میر زاہد اور ملاں جلال اور امور عامہ اور حمد اللہ قاضی اور شمس بازغہ کے پڑھنے میں دھوکہ سے لیا گیا ہے یا دھوکا سے لیا جاتا ہے تو وہ یاد رکھیں کہ یہاں کوئی آدمی سردست ان کتابوں کو نہیں پڑھتا اور نہ ان کتابوں کے پڑھنے کے لئے ہم نے آج تک کسی مخلص سے کوئی چندہ لیا ہے۔ایسے لوگ جیسے خواجہ کمال الدین ہیں اور ڈاکٹر یعقوب بیگ ہیں یا سید محمد حسین یا سید حامد شاہ، مولوی غلام حسن، مولوی محمد علی، مولوی شیر علی، مفتی محمد صادق، خلیفہ رشید الدین، حکیم فضل الدین، شیخ یعقوب علی، سید محمد احسن ہیں اور صدرانجمن کے ممبر جن کاموں کے لئے روپیہ کو لیتے ہیں۔میں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ کو یاد کرکے غلیظ قَسم کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ اپنے اغراض کے لئے یا فریب اور دھوکہ سے روپیہ نہیں لیتے نہ کسی ایسی عربی تعلیم کے لئے جس میں کتب بالا یا دیوان۔۔۔۔۔۔۔متنبّی پڑھایا جاتا ہو۔ابھی تک نہ کوئی روپیہ لیا ہے اور نہ کسی نے ہم کو دیا ہے۔ہمارا بے شک یہ منشاء تھا کہ جس طرح سید محمد احسن صاحب نے اپنے خطبہ میں جلال کے ساتھ صدرانجمن کے کورم اور ان کے علوم پر حملہ فرمایا تھا۔اس جوش کو عربی مدرسہ کے چندہ کے لئے خرچ کرتے اور پاک پُرجوش لفظوں میں حاضرین جلسہ کو یوں فرماتے کہ جس طرح ان وکلاء و ڈاکٹروں نے آپ لوگوں سے چندے لئے ہیں اور اپنے اغراض کا ذکر کیا ہے۔اسی طرح مجھے بھی چندہ دو اور میری یہ غرض ہے۔وہ حقیقی جوش دکھاتے تو میں ناامید نہ تھا کہ وہ جوش بیکار جاتا اور عربی مدرسہ کے لئے ایک موقع نہ نکال دیتا۔یا یہ معترض بجائے اس کے کہ ہم سب کو بے ایمان، خود غرض، شرارتی، دھوکہ باز کہتا خود کوئی کام کرکے دکھاتا تو ہمیں بہت خوشی ہوتی۔عربی مدرسہ کے لئے جیسی ہم کو خود تڑپ ہے ہر ایک کو کہاں ہوسکتی ہے مگر اس وقت تو ہر کام کے لئے روپیہ کی ضرورت پڑتی