ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 68
تیرے ذاتی اخراجات کے لئے ہم دیتے ہیں یا ایک میرے نہایت ہی پرانے مخلص مولوی یحيٰنے ضلع ہزارہ سے مجھے ایک دفعہ یہ کہہ کر کچھ دیا کہ یہ بڑا ہی حلال طیب مال ہے جس کو آپ کھائیں اور ہمارے لئے دُعا کریں کیونکہ حرام کھانے والے کی دُعائیں قبول نہیں ہوتیں اور یہ مال بلا اشتباہ حلال طیّب ہے تو میں نے اس مال کو بہت پسند کیا اور گھر میں تاکید کردی کہ اسے احتیاط سے ہمارے کھانے پینے میں لگائیں۔اس کے سوا کچھ ایسی رقومات ہیں جن میں مثلاً جماعت سیالکوٹ نے مجھے خصوصیت سے درخواست دی کہ آپ کا نذرانہ جماعت سیالکوٹ علیحدہ حاضر ہوکر پیش کرنا چاہتی ہے کوئی وقت مقرر کیا جاوے۔مگر ان کو کوئی ایسا موقع نہ ملا اور وہ روپیہ جو ان کے خیال میں ہوگا ہم نے عام اغراض بیت المال اور صدرانجمن احمدیہ کے نیچے رہنے دیا اور ان سے نہ لیا۔پس میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس شخص نے کس طرح چندہ لینے والوں کو فریبی دھوکہ باز اور دغا دہندہ یقین کرلیا۔تمام ایسے لوگ جو ہماری جماعت میں ہوں ہم ان سے بہتری کرتے ہیں۔بلکہ میری ایک لڑکی جس کے ہاتھ میں سونے کے کڑے تھے وہ مرگئی تو اس کا وہ روپیہ اس کی ماں کی درخواست پر ہم نے کسی تجارت پر کسی تاجر کو دے دیا اور پھر امۃ الحئی کے پیدا ہونے پر ہمیں خیال تھا کہ وہ روپیہ اسی کو دے دیا جاوے گا۔مگر ان بدمعاملہ لوگوں نے ہمارا اصل روپیہ بھی پورا نہ دیا۔باایں کہ وہ دعوے کرتے ہیں کہ ہماری جماعت اور ہمارے مریدوں میں داخل ہیں۔مگر چونکہ ہم نے ہی دلایا تھا ہم ذمہ وار تھے کہ وہ روپیہ بیوی کو دلادیں۔امۃ الحئی کو ہم نے کہا کہ اگر تم سورہ بقر ہمارے منشاء کے موافق ہم کو سنادو تو ہم تم کو سردست دو سو روپیہ بطور انعام کے دیں گے لیکن ساتھ ہی مجھے خیال آیا کہ ایسا نہ ہو یہ دو سو روپیہ کسی کے ابتلاء کا موجب ہو میں نے اس روپیہ کے دینے میں تامل کیا۔مگر آج رات مجھے انشراح صدر سے یہ ثابت ہوا کہ ایسے ابتلاء آتے ہی ہیں اور آئیں گے پس ہم اس پاک انعام کے دینے میں کیوں تامل کریں۔ہم نے