ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 65
مجھے علم ہے اس کا اثر تھا کہ رات کے وقت میری بیوی نے مجھ سے بیان کیا کہ آج جو میر صاحب نے تحریک کی ہے اس میں میں نے سچے دل اور کامل جوش اور پورے اخلاص سے چندہ دیا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ اگر ایسے مکان کے لئے ہمارے کوئی مکان کسی طرح بھی مفید ہوسکیں تو میں اپنی خام حویلی دینے کو دل سے تیار ہوں۔یہ سب کچھ میر صاحب کے اخلاص اور دلی جوش کا نتیجہ تھا۔میں نے اس سچے عقدہمت اور جوش کو دیکھ کر ایک ایسے آدمی سے جو میرے خیال میں کبھی چندہ میں شریک نہیں ہوا اور غالباً وہ چندوں سے مستفیض بھی ہے یہ کہا کہ ایسے جوش سے اگر آپ لوگ عربی میں دینیات میں تعلیم کے واسطے پُرجوش کوشش کرتے تو آپ بھی یقیناً بہت بڑے کامیاب ہوجاتے مگر اس نے مجھے یہ کہا ایک معترض کہ جس قدر یہاں چندے وصول کئے گئے اور بیان کیا گیا وہ سب کچھ ایک بے ایمانی اور دھوکہ اور فریب اور دغابازی کا کام تھا جو شریر النفس لوگوں نے عربی تعلیم کے بہانے سے وصول کیا اور لوگوں کو دھوکا دیا اور وہ روپیہ اپنی اغراض میں صرف کیا یا کرتے ہیں۔مجھ کو اس فقرہ سے جو تکلیف ہوئی ہے اس کا بیان کسی لفظ میں میں نہیں کرسکتا۔ (البقرۃ:۱۵۷) (یوسف:۸۷ ) اور لَقَدْ اُوْذِیَ مُوْسٰی وَ مُحَمَّدٌ اَکْثَرُ مِنْ ذَالِکَ کے سوا کوئی تسلی کا موجب نہیں ہوسکتا مگر میں دنیا میں زیادہ دیر رہنے کے لئے نہیں جیسا کہ اس شخص کا خیال ہے۔اگر اور بھی کوئی ایسا ہو۔اس نے تو کبھی بھی مالی شرکت نہیں کی اور واقع میں جو مالی شرکت رکھتا ہے صاف لفظوں میں سنانا چاہتا ہوں اور تمام ان لوگوں کو جو قادیان میں چندہ دیتے ہیںبلند آواز سے میں کھول کر کہتا ہوں کہ ہندوستان میں کانگریسوں، انارکسٹوں، کانفرنسوں، انجمنوں، ندووں، کالجوں، سکولوں، عربی مدارس اور سنسکرت کے مدارس کے لئے لاکھوں روپیہ بلکہ کروڑوں تک خرچ ہوتا ہے۔جن جن موقعوں پر وہ لوگ اس روپیہ کو خرچ کرتے ہیں ان کاموں میں قوم کے محسن، ملک کے محبّ اور منجّیوہ یقین کئے گئے ہیں لیکن ہماری چھوٹی سی جماعت جس کا روپیہ لاکھوں کے ابھی نزدیک بھی نہیں اس میں اگر دھوکادہ اور فریبی لوگ کہلاتے