ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 64
ر کتابوں کی خرید کی سفارش بھی کی جن میں نہایت پسندیدہ کتاب ’’تائید حق‘‘ تھی مگر اس تحریک پر صدہا جلدیں تائیدوں میں سے ایک کم اَسّی ۸۰ کتاب غالباً لوگوں نے لیں۔۱۵ اور ۱۶؍ذی الحجہ کو چند لڑکے یتیم اور مساکین اور چند طالب علم یہاں آئے اور نیز وہ طالب علم عربی کے جن میں سے کچھ میرے پاس حدیث و طب پڑھتے تھے اور کچھ وہ جو آگے ان سے پڑھتے تھے۔ان کے خرچ کا مجھے فکر پڑا اور میں نے یہ خیال کرکے کہ جس قدر چندے یا خرچ حضرت صاحب کے عہد میں تھے ان میں کوئی جدید شاخ اب تک نہیں نکلی بلکہ تصنیفوں اور اشتہاروں کے لحاظ سے خرچ میں گونہ تخفیف ہے مگر لنگر پرا ن طلباء کا بوجھ مجھے ناگوار اور ناپسند نظر آیا کیونکہ حضرت صاحب کے وقت ان طلبہ کا کھانا لنگر سے نہیں دیا جاتا تھا۔اس خرچ کو یتامیٰ سابق(۱۴)، جدید(۳)، کل(۱۷)، مساکین سابق(۳۰)، جدید(۹)، کل(۳۹) اور طالب علم کل(۱۷) ان سب کا کھانا لنگر سے علیحدہ کرنے کا جو خیال ہوا تو میں نے مولوی محمد علی صاحب کو چندہ لنگر جو اس وقت میرے ایک دست اور بازو اور جن کے اخلاص پر مجھے تعجب آتا ہے اور رشک بھی آتا ہے یہ کہا کہ پانچ ہزار روپیہ ان لوگوں کے لئے خصوصیت سے الگ چندہ کیا جاوے توکہ لنگر اس بوجھ سے محفوظ رہے۔تو میں نے با اینکہ میں صاحب نصاب کسی زکوٰۃ کا نہیں ہوں سو روپیہ اپنی گرہ سے دینا کیا ہے۔اور ان کو تاکید کی کہ میری طرف سے اس چندہ کے بارہ میں آپ ایک چٹھی شائع کریں۔یہ تو ۱۵اور۱۶؍ ذی الحجہ کا قصہ تھا کہ چند ایک غرباء کے بیمار ہوجانے سے میر صاحب ناصر وارڈ میر ناصر نواب کو جو آج کل انجمن ضعفاء کے سرگرم ممبر ہیں ایک جوش پیدا ہوا کہ ان بیماروں کے لئے ایک وسیع مکان بنانا ضروری ہے تاکہ ڈاکٹر اور طبیب ایک ہی جگہ ان کو دیکھ لیا کریں اور ان کی تیمارداری میں کافی سہولت ہو۔ان کی اس جوش بھری خواہش کو میں نے محسوس کرکے ایک سوروپیہ کا وعدہ ان سے بھی کرلیا ہے اور تیس روپے نقد بھی دئیے۔ایک پرانی رقم ساٹھ روپیہ کی جو اس کام کے لئے جو میں نے جمع کی اس کے بھی نکلوادینے کا وعدہ کیا۔اس جوش بھرے مخلص نے قادیان کے بستی مخالفوں اور موافقوں ہندو اور مسلمان، دشمن و دوست سب کو چندہ کے لئے تحریک کی۔جہاں تک