ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 63 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 63

میرا یہ یقین تھا کہ حضرت صاحب کے کنبہ اور متعلقین کو اس میں سے کافی امداد دی جاوے لیکن آج تک جو ۱۷؍ذی الحجہ ہے کوئی راہ ایسی نہیں نکلی کہ سوا معمولی کھانے پینے کے کوئی مالی نقد یا کپڑے یا ضروری مکان بنادینے کی امداد میں یا صدرانجمن احمدیہ قادیان کرسکی ہو۔خود میں اپنی ذات سے اپنے کھانے کے لئے لنگر سے لینا طبعاً مکروہ سمجھتا ہوں ہاں میرے ساتھ جو لوگ وابستہ ہیں ان میں سے ایک لڑکا میرے دوست کا اور دوسرا لڑکا ہماری ایک بھتیجی کا، لنگر سے وہ کھانا کھاتے ہیں جو بہت ہی ادنیٰ درجہ کا ہوتا ہے۔حضرت صاحب کے وقت میں عمدہ سے عمدہ کھانا لنگر سے آیا ہوا اپنے سامنے دیکھتا تھا اور وہ سب کچھ حضرت صاحب کے صبح و شام کی تاکیدات کا نتیجہ تھا۔حضرت بیوی صاحبہ نے جو میرے ایسے حالات سے زیادہ تر واقف ہیں۔ایک بار کچھ نقد روپیہ بہت ہی الحاح کے ساتھ مجھے دیا اور یہ کہا کہ یہ صرف تیرے کھانے کے لئے ہے اور ساتھ ہی کچھ روپیہ دیا کہ اس کو لنگر میں آپ داخل کریں مگر دوسرے حِصّہ میں سے نہ دیں نیز سخت ضرورت پر اور وہ ضرورت یہ ہے کہ میاں شریف احمد کی شادی جہاں ہوئی ہے اس لڑکی کے لئے ایک مکان کی ضرورت تھی۔سو اس کو انہوں نے جن مشکلات سے بنایا ہے ان کو وہ سمجھتے ہیں۔جن کو باہر سے کوئی روپیہ نہ دیا گیا ہو اور پھر مکان بھی بنانا پڑے مگر میں یا صدرانجمن یا لنگر اس امداد میں شریک نہیں ہوسکے۔حضرت صاحب کے وقت کس قدر روپیہ بچتا تھا۔اس کا پتہ اس سے لگ سکتا ہے کہ آپ کے بعد آپ کے ذمہ پانچ سو روپیہ کا قرضہ تھا جس کو کسی چندہ اور آمدنی نے ادا نہیں کیا۔وہ ادا تو ہوا مگر ایسے راہ سے ادا ہوا کہ اس میں کسی چندہ دہ یا عام مرید یا کسی یک مشت مخفی طور پر دینے والے نے اس میں شرکت نہیں کی بلکہ یوں کہا جاسکتا ہے کہ حضرت صاحب کی اپنی کسی محنت اور تکلیف سے وہ ادا ہوا ہے۔یہ باتیں درد مند دل سے نکلی ہوئی ہیں۔اس جلسہ پر جو کچھ مختلف تقریروں میں ہمارے مخلص احباب نے کہا وہ سب کچھ اخلاص اور درد اور سچی محبت کا نتیجہ تھا۔میں جب تقریر کے لئے کھڑا ہوا تو بجائے اس کے کہ میں تمہیں کسی قسم کی مالی تحریک کرتا میں نے یاوعظ پر اکتفا کیا یا اس راہ کے اظہار پر اکتفا کیا جس پر قدم مارنے سے مجھے آرام ملا۔اِشْفَعُوْا تُوْجَرُوْا(مشارق الانوار علٰی صحار الا ثارجزو ۲ صفحہ۵۱۲)کے رنگ پر بعض کتب فروشوں اور