ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 52
غیر ذبیحہ ہرن کی کھال ایک صاحب نے لکھا ایک امر دریافت طلب ہے کہ غیر ذبیحہ ہر ن کی کھال بعد لگانے مصالحہ کے قابل جا نماز بنانے کے ہو سکتی ہے یا نہیں؟ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ جائز ہے۔باجا یا دف ایک صاحب نے حضرت امیر المومنین سے مسئلہ دریافت کیا کہ بیاہ شادی میں باجا بجانا جائز ہے یا نہیں اور یہ بھی لکھا کہ بازی گروں کا تماشہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ کو دکھایا تھا اس واسطے وہ بھی جائز ہونا چاہیے۔حضرت نے جواب میں فرمایا۔با جا یا دف اعلان کے لئے جائز ہے۔بے ریب حضرت نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں دف بجی۔مگر بات کو لوگوں نے حد سے بڑھا دیا ہے اور حد سے بڑھنا بھی گناہ ہے۔یہ بالکل سیاہ جھوٹ ہے اور روافض کا افتراء ہے کہ عائشہ صدیقہ ؓ کو اپنے کندھے پر چڑھایا اور بازی گروں کا تماشہ دکھایا۔یہ بالکل غلط ہے۔دف کا حرج نہیں۔(البدر جلد۸ نمبر۶ مورخہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۰۸ء صفحہ ۹) سوالات اور ان کے جوابات ایک صاحب نے حضر ت امیر المومنین کی خدمت میں چند سوالات پیش کئے۔حضرت نے مختصر مگر شافی جواب تحریر فرمائے۔سوال وجواب درج ذیل ہیں۔سوال۔تعویذات ودم درست ہیں یا نہیں ؟ جواب۔جن میں شرک نہ ہو وہ درست ہیں۔حضرت نبی کریم خود اور آپ کی امت اب تک۔ (الفلق:۲)اور(الناس:۲)تعویذ ہے اور الحمد کادم کرنا احادیث سے ثابت ہے اور گلے میں تعویذ لٹکانا عبداللہ بن عمرو سے ثابت ہے۔