ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 51 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 51

بجورا ایک پھل ہے اس کو ہمارے ملک میں چکوترہ کہتے ہیں۔کھٹے کی شکل میں بہت بڑا ہوتا ہے۔چاولوں کی طرح اس کے اندر گودا ہوتا ہے۔غیر مطلقہ مگر متروکہ کیا کرے ؟ ایک شخص نے دریافت کیا کہ جو مرد اپنی عورتوں کو نہ بساتے ہیں نہ طلاق دیتے ہیں۔وہ بیچاری عورتیں کیا کریں ؟ حضرت امیر نے جواب دیا۔قرآن شریف میں فرمایا ہے۔زانی زانیہ کو نکاح کرتاہے۔سورئہ نور میں ہے (النور: ۴)۔جو لوگ عورتوں کو دکھ دیتے ہیں اور دکھ کے اغراض پر طلاق نہیں دیتے اُن کے نکاح میرے نزدیک بحکم  (الطلاق:۷)اور (البقرۃ:۲۳۲) وَ لَا ضَرَرَوَلَا ضِرَارَ فِی الْاِسْلَامِ(سنن النسائی کتاب الاستسقا)۔باقی نہیں رہتے۔ایسے شریر اگر فی الواقع موذی اور شریر ہیں تو اُن کی بیبیاں اور جگہ نکاح کر سکتی ہیں۔بے تردّد نکاح اور جگہ کر لیں۔کیا وجہ کہ نکاح نہ کر لیں۔و ہ شخص بلا تکلف نکاح کر لے۔(البدر جلد ۸ نمبر۶ مورخہ ۱۷ ؍دسمبر ۱۹۰۸ء صفحہ۳) روز ہ کس عمر میں فرض ہے ؟ ایک شخص نے سوال کیا کہ کس عمر میں روزہ لڑکے کے واسطے فرض ہو جاتا ہے؟ حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ بالغ ہو جانے پر روزہ فرض ہو جاتا ہے اور بلوغ کا نشان یہ ہے کہ زیر ناف بال پیدا ہو جاویں یا نیند میں جماع کرے۔فرمایا۔صحابہ بچوں کو کبھی روزہ رکھوا لیتے تھے۔فرمایا۔غالباً پندرہ برس کے لڑکے بالغ ہوتے ہیں۔