ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 4 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 4

کیا ہے کہ مرزا جی ۱۸۳۶ء و ۱۸۳۷ء میں پیدا ہوئے۔پس اس صورت میں شمسی حساب سے ۷۲۔۷۳ اور قمری حساب سے ۷۴۔۷۵ برس حضرت امام کی عمر ہوتی ہے۔اب میں نصرت الحق ضمیمہ براہین احمدیہ ( یہ کتاب حضرت امام کی تصنیف ہے) کے صفحہ ۹۷سطر ۱۶ کو ’’اور جوظاہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ تو چوہتر۷۴ اور چھیاسی۸۶ کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے ہیں۔‘‘ (روحانی خزائن جلد ۲۱صفحہ ۲۵۹) پیش کرتا ہوں اور اس واقعی بیان کے بعد میرے نزدیک کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا اصل وحی الٰہی کا اس میں ذکر ہے باقی صرف خیال ہے۔ہاں یہ امر بھی عرض کر دینے کے قابل ہے کہ کچہریوں اور عام تمسکات میں تحریروں میں علی العموم عمر کے متعلق تخمینے سے کام لیا جاتا ہے موقعہ پر جو یقین یا تخمینے یا ظن غالب ہوتا ہے وہی لکھوایا جاتا ہے۔میرا خیال ہے اس واسطے عمر کے متعلق دروغ حلفی کے مقدمات سننے میں نہیں آتے۔پھر اگر حضرت نے کہیں اس رنگ میں عمر کے متعلق مختلف الفاظ بیان کئے ہوں تو صریح وحی کا لفظ وہاں استعمال نہیں فرمایا۔نکاح والی پیشگوئی پر حقیقۃ الوحی میں ۳۸۷و ۳۸۸ (روحانی خزائن جلد۲ ۲ صفحہ ۴۰۲ حاشیہ) میں حضرت امام خود ارقام فرماتے ہیں کہ اس پیشگوئی میں۔۔۔۔۔۔۔اَیَّتُھَا الْمَرْأَۃُ تُوْبِیْ تُوْبِیْ فَاِنَّ الْبَـلَائَ عَلٰی عَقَبِکِ (حاشیہ)موجود ہے۔پس احمدبیگ جب میعاد کے اندر مر گیا تو پس ماندے گھبرائے اور بعض کے خط عجز و نیاز کے بھرے ہوئے آئے جو اب تک موجود ہیں تو خدا تعالیٰ نے اپنی شرط پوری کرنے کے لئے اس پیشگوئی میں تاخیر ڈال دی۔پھر لکھا ہے کہ یہ مخالف احمد بیگ کے داماد کا ذکر کرتے ہیں مگر احمد بیگ کے وقت پر مرنے کا ذکر نہیں کرتے۔۳۸۸۔’’ وعیدکی پیشگوئیوں کا پورا ہونا بموجب نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے ضروری نہیں کیونکہ وہ کسی بلا کے نازل ہونے کی خبر دیتی ہیں اور باتفاق ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبرکے ہر ایک بلا صدقہ اور خیرات اور دعا اور تضرع و زاری سے رد ہو سکتی ہے۔‘‘ ۳۸۹ حقیقۃ الوحی(روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۳،۴۰۴ )۔پھر اس کا بسط سے ذکر کرتے لکھا ہے کہ’’ وعید کی پیشگوئیاں بھی ایک بلا ہوتی ہیں اور جس طرح بلاء کا واقع ہونا ممکن، اس کا دور ہونا بھی ممکن ہے۔تتمہ حقیقۃ الوحی کے صفحہ ۱۳۳ میں فرمایا ہے کہ پس جب ان لوگوں نے اس شرط (تُوْبِیْ