ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 5
تُوْبِیْ فَاِنَّ الْبَـلَائَ عَلٰی عَقَبِکِ ) کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔کیا آپ کو خبر نہیں کہ یَمْحُوا اللّٰہُ مَایَشَائُ وَ یُثَبِّتُ اِلٰی تتمہ حقیقۃ الوحی۔۱۳۴۔(روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۵۷۰تا۵۷۲) اس کے علاوہ ڈاکٹر عبدالحکیم اور مولوی ثناء اللہ کے اعتراضات ہیں۔میں نے ان پر ایک قاعدے کے رنگ پر مضمون لکھا ہے جو طبع ہو گیا ہے۔ریویو اور علیحدہ بھی شائع ہوا ہے۔میں مفصل لکھتا مگر کثرت ڈاک کے باعث اسی قدر اکتفا کرتا ہوں۔(یارزندہ صحبت باقی ) (البدر جلد ۷ نمبر ۲۵ مورخہ ۲۵ ؍ جون ۱۹۰۸ء صفحہ ۲) نئے مذاہب و فرق کے قیام کے فوائد و مقاصد (۱۰؍جون ۱۹۰۸ء قبل ظہر) سید عبد المحی صاحب عرب نے حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح کی خدمت میں ذیل کا سوال پیش کیا کہ ابتداء سے ہم یہ دیکھتے چلے آتے ہیں کہ ہر نئے مذہب کے پیدا ہونے پر پچھلا مذہب تو بد ستور باقی رہ جاتا ہے اور ایک نیا مذہب قائم ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح کی بعثت پر یہودی یہودی ہی رہ گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر بھی بدستور یہودی یہودی اور نصرانی نصرانی ہی رہے اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام میں نئے نئے فرقے پیدا ہوگئے تھے وہ بھی باقی رہ گئے اور اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد پر ایک نئی جماعت قائم ہو گئی۔غرضیکہ نئے مذاہب اور فرقوں سے فائدہ کیا؟ اور ان پہلے پرانے مذاہب اور فرق کے……سے نتیجہ کیا حاصل ہوتا ہے؟ جواب فرمایا کہ یہ تو ایک سیدھی اور صاف بات ہے اللہ جلّ شانہ کا نام ربّ العالمین ہے اس کی ربوبیت کا اثر عناصر کو نباتات اور نباتات کو حیوانات اور حیوانات کو انسان بناتا اورپھر اپنی ربوبیت سے ہی انسان کو باخدا انسان اور پھر مقرب بارگاہِ الٰہی بناتا ہے اورپھر اس کی یہ ربوبیت صرف ایک ہی زمانہ تک محدود نہیں بلکہ ہر زمانہ اور ہر آن میں اس کی شان ربوبیت اپنی مخلوق کے شامل حال رہتی ہے چنانچہ ہم ہرزمانہ میں اللہ تعالیٰ کے عجائبات قدرت، اس کے رحم، اس کے کرم اور اس کی شان کبریائی کا نئے نئے رنگ میں نظارہ کرتے ہیں۔