ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 496
کوئی زور نہیں ڈالا جاتا۔پس جب بیعت اپنے ارادے اور خوشی سے ہے تو اس پر پکّے رہو۔اپنے عہد کو پورا کرو۔بعض آدمی بڑے مضبوط اور راستباز ہوتے ہیں۔جب اقرار کرتے ہیں اس پر قائم رہتے ہیں اور اسے پورا کرتے ہیں۔لیکن بعض لوگ اس خیال میں رہتے ہیں کہ اگر بیعت کرنے کے بعد کوئی نفع دنیوی حاصل ہوگیا تب تو پیر صاحب بڑے اچھے اور سلسلہ عمدہ۔اور اگر ذراابتلاء آگیا تو پھر کچھ بھی نہیں۔واقعات انبیاء سے سبق فرمایا۔انبیاء کا جو بیان قرآن شریف میں ہے اس میں ہمارا حصہ یہ ہے کہ ہم غور کریں کہ مومن پر کیسے ہی مصائب آجاویں اور بظاہر ہلاکت نظر آوے اور بڑے مشکلات دکھلائی دیں اور نفس کمزوری دکھلائے کہ تو تباہ ہوجائے گا۔تو نفس کو جواب دینا چاہیے کہ تو جھوٹ کہتا ہے۔اس سے بڑھ کر سخت ابتلاء انبیاء پر آئے مگر وہ تباہ نہ ہوئے۔بسبب اپنے ایمان کے اور راستبازی کے وہ ہمیشہ کامیاب ہوتے رہے۔اس طرح ہم بھی انشاء اللہ کامیاب ہوں گے۔خدا تعالیٰ ہماری نصرت کرے گا۔فرمایا۔تکالیف ، مصائب کا آنا ضروری ہے مقدمات ہوتے ہیں عداوتیں کی جاتی ہیں لیکن یہ سب تھوڑے وقت کے واسطے ہے۔آخر فتح مومن کی ہے۔قرآن نعمت الٰہی ہے فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو کتاب دی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کتاب دی۔ہاں مجھے بھی کتاب دی۔یہ اللہ تعالیٰ کا انعام سب مومنین پر ہے۔بہادر سپاہی فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے بہادر سپاہی بنو۔بنی اسرائیل کے معنے ہیں بہادر سپاہی کے بیٹے۔بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے جو احکام ہیں وہ تمہارے لئے بھی ہیں۔لفظ ام المومنین کا غلط استعمال فرمایا۔کسی شخص نے میری بیوی کو ام المومنین لکھا ہے مجھے یہ ناگوار ہے۔ہمارے دوستوں کو سوچ سمجھ کر لفظ بولنا چاہیے۔میری بیوی تمہاری ماں نہیں۔ہاں پیغمبر خدا ﷺ کی بیوی کو اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی ماں فرمایا ہے دوسروں کو ماں نہیں کہا۔ہاں ان معنوں میں ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارے بچوں کو ایماندار بنائے اور ان کی ماں ان مومنین کی اُم ہے۔