ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 493 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 493

قرآن سے مطابقت کر کر جواب دے دو۔قرآن میں چونکہ لکھا ہے کہ (الحج: ۴۸) تو پس اس لحاظ سے ہم تین ہزار سال تک بھی مہمان رہ سکتے ہیں۔فرمایا کہ یہ ایمانی حالت ہے اور بسا اوقات ہم نے بھی اس کا تجربہ کیا ہے۔کُن کا مخاطب فرمایا۔کُن پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ خطاب کس کی جانب ہے۔اگر کہوکہ مخلوقات و اشیاء کے جانب تو یہ اعتراض ہوگا کہ پھرکُن کے کہنے کے پہلے جب یہ موجود تھے تو کُن کے بعد کیا پیدا ہوا۔فرمایا۔جواب یہ ہے کہ کُن کا اطلاق علم الٰہی پر ہے۔چونکہ اس کا مخاطب علم الٰہی ہی ہے۔نو مسلم انگریزوں کی خواہش یورپ کے بعض نو مسلم انگریزوں کی یہ خواہش پیش کی گئی کہ نماز کا ترجمہ انگریزی زبان میں کروا کر بھیج دیا جائے۔فرمایا کہ الحمد اور قل ہواللّٰہ تو عربی زبان میں پڑھنا ضرور ہے۔باقی دعائیں اپنی زبان میں پڑھ لیا کریں اگر اس قدر عربی بھی نہیں آسکتی تو پھر ہمیں ایسوں کی ضرورت بھی نہیں۔احادیث کاترجمہ فرمایا۔حضرت صاحبؑ تو ترجمہ کے بہت مخالف تھے فرمایا کرتے تھے کہ یہ جو حدیثوں کا ترجمہ ہوا ہے تو اصل الفاظ سے روک دیتا ہے۔سفر حج میں نعلین کے تسمے ملنا فرمایا۔ایک بزرگ حج کو جارہے تھے اور ایک دنیادار مرید بھی ساتھ تھا۔اس نے ایک وقت کہا کہ شیخ ریت میں نعلین کے تسمہ ٹوٹ جایا کرتے ہیں چند تسمہ ہمراہ رکھ لینا چاہیے۔انہوں نے تو انکار کردیا۔لیکن ہشیار مرید نے ساتھ رکھ لیا۔جب دونوں چلے تو اتفاقاً راستہ میں شیخ کی نعلین کا تسمہ ٹوٹ گیا۔مرید سے کہا کہ ہمارا تسمہ ٹوٹ گیا ہے۔ذرادیکھنا کہ یہاں کہیں تسمہ تو نہیں چونکہ حج کے لئے بہت سے قافلہ جاتے ہیں ممکن ہے کہ کسی کا تسمہ گر گیا ہو۔جب مرید نے تلاش کیا تو ایک تسمہ مل ہی گیا اور پھر آگے بڑھے۔اتفاقاً دوسرے وقت پھر تسمہ ٹوٹ گیا پھر بھی مرید کو تلاش کرنے کو کہا۔چونکہ کوشش انبیاء کی سنت ہے پس پھر تلاش پر اور ایک تسمہ مل گیا۔مرید نے عرض کیا شیخ میں تو ناحق بوجھ اٹھا کر اپنے ساتھ تسمہ لایا۔یہاں تو ضرورت پر خود ہی تسمے ملتے ہیں۔