ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 490 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 490

ہرگز ماننے والے نہ تھے آپس میں لڑکر قتل ہوگئے تھے۔بڑے بڑے سردار اس میں مارے گئے تھے۔(البدر جلد۱۱ نمبر۴و۵ مؤرخہ ۱۶؍نومبر۱۹۱۱ء صفحہ ۳،۴) ناجائز تجارت ایک شخص کا سوال پیش ہوا ’’بعض آدمی ایسا کرتے ہیں کہ کوئی سرمہ یا دوائی یا کوئی اور ایسی کارآمد چیز مثلاً جرابوں کے جوڑے یا گھڑیوں کے زنجیر وغیرہ غرض کوئی ایسی چیز لے کر فرضاً جرابوں کے ۵۰۰ جوڑہ لے کر ہر ایک جوڑہ کو ایک ایک کاغذ میں باندھ کر ۵۰۰ پیکٹیں تیار کرتے ہیں۔اور ان پانچسو پیکٹوں میں سے ایک پیکٹ میں دس روپیہ کا نوٹ اور دو پیکٹوں میں پانچ پانچ روپیہ کے دو نوٹ ڈال دیتے ہیں اور سب پیکٹوں کو خوب ملا دیتے ہیں یعنی اپنے آپ کو بھی یہ خبر نہیںرہتی کہ نوٹ کس کس پیکٹ میں ہیں۔پھر ہر ایک پیکٹ کی کچھ قیمت رکھ دیتے ہیں۔مثلاً ہرایک پیکٹ کی قیمترکھ دی۔اب جو جو آدمی ان کو خریدنا چاہتے وہ آنے مالک کو دے دے تو اس کا نام رجسٹر میں درج کرلیا جاتا ہے۔پھر ایک تاریخ مقررہ کو (جو کہ پہلے سے مقرر کر لی جاتی ہے) سب پیکٹیں خریداروں کو تقسیم کردی جاتی ہیں اور انہی میں وہ نوٹ والی پیکٹیں بھی تقسیم ہوجاتی ہیں۔یہ ایک مال کو جلدی فروخت کرنے کا ڈھنگ ہے۔وہ جراب جس کی قیمت  رکھی گئی ہے وہ قریباً بازار سے بھی پرچون اتنے ہی کو ملتی ہے۔کوئی دو چار پیسے کا فرق ہو تو ہوسکتا ہے۔اب یہ خاکسار بڑے ادب سے آپ سے دریافت کرتا ہے کہ یہ ڈھنگ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا۔یہ جؤا بازی ہے جو شرعاً جائز نہیں۔قرأت نماز میں سورتوں کی ترتیب فرمایا۔یہ جائز ہے کہ نماز کے اندر کی پہلی رکعت میں کوئی آخری سورۃ پڑھی جائے اور دوسری رکعت میں اس سے قبل کی سورۃ پڑھی جائے۔دونوں رکعتوں میں ایک سورۃ فرمایا۔جائز ہے کہ دونوںرکعتوں میں ایک سورۃ پڑھی جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ صبح کی نماز میںہر دو رکعت میں سورۂ اِذَا زُلْزِلَتْ پڑھی تھی۔(البدر جلد۱۱ نمبر۴و۵ مؤرخہ ۱۶؍ نومبر۱۹۱۱ء صفحہ ۶)