ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 487
حادث فرمایا۔کل موجودات، محسوسات جن کا ہم کو علم ہے وہ تو سب حادث ہیں۔باقی وہ چیزیں جو ہمارے مشاہدہ سے باہر ہیں ان کی نسبت بحث کرنے کی ہم کو ضرورت نہیں۔جو اعیان و عوارض ہم نے دیکھے ہیں وہ سب حادث ہیں۔خدا تعالیٰ کی ذات غنی ہے فرمایا۔مولوی محمد اسمٰعیل شہید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا لکھنؤ میں ایک فلسفی سے مباحثہ ہوا۔مولوی صاحب نے اسے کہا کہ ہم تمہارے فلسفہ کے اصول کے مطابق بحث نہیں کرتے۔ہم تو اس طرح سے فیصلہ کرنے کو طیار ہیں کہ تو اور ہم ایک کوٹھری میںبند ہوکر بیٹھ جائیں اور پھر دیکھیں کہ خدا تعالیٰ خود ہی اصل بات کو کس طرح ظاہر کردیتا ہے۔اس بات کو سن کر حضرت (مرزا صاحب مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام) نے فرمایا کہ اگرچہ اس طریق سے فیصلہ کرنے کے لیے کوئی شخص مولوی محمد اسمٰعیل صاحب کے مقابلہ پر نہیں آیا تاہم یہ ایک خطرناک بات ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی ذات تو غنی ہے۔کربلا کیوں متبرک؟ فرمایا۔تعجب ہے کہ اہل شیعہ کربلا کومتبرک سمجھتے ہیں اور وہاں اپنے مُردوں کی لاشیں لے جاتے ہیں اور اسی جگہ دفن کرتے ہیں۔حالانکہ کربلا تو وہ مقام ہے جہاں حضرت امام حسین پر ایسی سخت مصیبت اور تکلیف وارد ہوئی تھی۔عناصر میں تمیز فرمایا۔مثنوی میںلکھا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ عناصر میں تمیز اور ادراک نہیں ہوتا۔مگر دیکھو پانی نے نوح کو اور ان کے دشمنوں کو پہچان لیا۔اور اسی طرح پانی نے موسیٰ اور فرعون کو پہچان لیا اور ہر ایک کے ساتھ اس کے مناسب حال سلوک کیا۔اور آگ نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کو پہچان لیا۔صوفیاء نے لکھا ہے کہ کلّر زمین میں گناہ بہت ہوتے ہیں اور باغ والی زمین میں نیکیاں بہت ہوتی ہیں کیونکہ سبزہ زار کے درخت بھی تسبیح کرتے ہیں۔بیڑا غرق کرنے والے وظیفے ایک شخص نے عرض کی کہ مجھے ایک صاحب نے یہ وظیفہ بتایا ہے کہ تم ہر روز یاخضر یاخضر پڑھتے رہا