ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 474
خود نام محمدؐ ہی اس بات کو ثابت کررہا ہے کہ محمدؐ کا لفظ اوروں کے واسطے آسکتا ہے۔محمد کے معنے ہیں حمد کیا گیا۔ایسا ہی مقام محمود، جگہ حمد کی گئی۔غرض کہ قرآن شریف میں محمد رسول اللہ اور مقام محمود، دو جگہ اس بات کے ثبوت میں کافی ہیں کہ حمد کا لفظ غیرخدا پر بھی استعمال ہواہے۔احادیث بخاری فرمایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مبارک سے لے کر پانچ سو برس تک مدینہ منورہ میں کوئی داعیٔ بدعت نہیں ہوا۔اسی لیے امام بخاری علیہ الرحمۃ کی عادت ہے کہ مدینہ والوں کی روایات کو مقدم سمجھتے ہیں۔امام بخاری بدعتیوں میں سے خارجیوں کی روایت کو تو لے لیتے ہیں لیکن رافضیوں کی روایت کو شاذ ہی لیتے ہیں۔اس کی و جہ یہ ہے کہ خارجیوں کے ہاں جھوٹ کفر ہے اور شیعوں کے ہاں تقیہ کے رنگ میں جھوٹ بولنا جائز ہے۔اسی طرح امام بخاری ان روایات کو شیعوں اور خارجیوں سے ہرگز نہیں لیتے جو ان کے مذہب سے مخصوص ہوں۔غربااچھے رہے فرمایا۔دین جس قدر اولیاء اللہ کے ذریعہ پھیلا ہے اس قدر بادشاہوں کے ذریعہ سے نہیں پھیلا۔اگر کوئی کہے کہ عالمگیر بادشاہ نے دین کی خدمت کی تو اس سے پوچھا جائے کہ گولکنڈہ میں کون تھا جس کے ساتھ عالمگیر کے جنگ ہوتے تھے۔وہ ایک سید تھا۔تاریخ سے ثابت نہیں ہوتا کہ ایک آدمی بھی عالمگیر کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہو۔جب کبھی دینی کام ہوئے غربا سے ہی ہوئے۔عربی لٹریچر فرمایا۔ہم نے جرمن کے پروفیسروں سے دریافت کیا کہ وہ کون کون سی کتابیں ہیں جن کے پڑھنے سے عربی زبان بہت اعلیٰ درجہ کی آجائے۔انہوں نے بالاتفاق مفصلہ ذیل کتابوں کا نام لکھا:۔قرآن شریف، بخاری ، مسلم، آثار کی کتابیں، امام شافعی کی کتاب اُم، احیاء العلوم، جاحظ کی کل کتابیں،مبرو کی کتاب کامل، عقدالفرید، سیرت ابن ہشام، تاریخ طبری، فتوح البلدان، تقویم البلدان، مقدمہ ابن خلدون، شفاء، رحلہ ابن بطوطہ، الف لیلیٰ، کلیلہ دمنہ، سبع معلقہ، حماسہ، اغانی، دیوان حریر، ابن ربیعہ، سقط الذنب، قانون بوعلی سینا، سیرۃ المختار۔