ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 470
کہا کہ دعا ہے۔میں نے کہا کہ کل مذاہب میں جو کوئی ایک اعلیٰ درجہ کی دعا ہوگی وہ تم نے لے لی ہوگی وہ ہمیں بتاؤ۔مگر اس نے نہ بتایا اور ڈرگیا کہ جو کوئی دعا بھی میں بتاؤں گا اس میں کوئی اعتراض کوئی کمزوری نکل آئے گی۔میں نے بہت زور لگایا مگر وہ کسی طرح اپنے مذہب کی دعا کے بیان کرنے پر راضی نہ ہوا۔پھر میں نے کہا کہ آپ تو ڈر گئے کہ جو دعا ہم سنائیں اس میں شاید کوئی نقص ہو مگر میں ایک دعا سناتا ہوں پھر میں نے الحمد سنائی اور اس کا ترجمہ اس کی ہی زبان میں کرکے بتایا اور پوچھا کہ اب تم کوئی دعا سناؤ جو اس سے بڑھ کر ہو۔وہ مبہوت رہ گیا اور نوٹ بک نکال کر کہنے لگا کہ یہی دعا لکھ دو۔بس۔بس میں یہی دعا مانگا کرو ں گا۔یہ کامیابی ہے قرآن کریم کی۔میں نے کہا کہ پھر تمہارے مذہب نے کیا بتایا ؟(سید وزارت حسین ) (البدر جلد۱۱ نمبر۱ مؤرخہ ۲؍ نومبر ۱۹۱۱ء صفحہ ۳) لطیفہ ایک پادری نے حضرت خلیفۃ المسیح سے ایک دفعہ پوچھا کہ تم جو کہتے ہو کہ بہشت میں کھانے کی چیزیں ہوں گی۔جب کھائیں گے تو بتلاؤ کہ پاخانہ کہاں پھریں گے؟ حضرت نے اسے جواب دیا کہ تم نو مہینے ماں کے پیٹ میں رہے اور کھاتے بھی رہے۔بتلاؤ کہ پاخانہ کہاں پھرتے تھے۔اس پر پادری صاحب خاموش ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صحابہ کس سادگی میں زندگی بسر کرتے تھے فرمایا۔وہ کیا عجیب نظارہ ہوگا کہ ایک دن حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنی بیٹی کے گھر میں گئے۔آپ کے ساتھ بارہ صحابی تھے۔ان میں سے ہر ایک سر سے ننگا تھا کسی کے گلے میں کڑتہ نہ تھا کسی کے مونڈھے پر چادرنہ تھی اور کسی کے پاؤںمیں جوتا نہ تھا سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں آپ کے ساتھ چلے جاتے تھے۔دیکھو صحابہ کس حالت میں اپنی زندگی بسر کرتے تھے اور اس وقت یہ پیشگوئیاں ہوتی تھیں کہ ہم قیصر و کسریٰ کے فاتح ہوں گے۔ایک شخص نے کہا کہ اس وقت عام طور پر غربت تھی اور سب لوگوں کا یہی حال ہوگا؟ فرمایا۔نہیں سب تو ایسے نہ تھے۔ابوجہل کے اونٹ کی نکیل سونے کی تھی۔