ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 469
سفارش کرادی اور مقدمہ اس کو حسب خواہ فیصل ہوگیا۔پھر اپیل میں بھی اسی و جہ سے کہ اوّل فیصلہ ایک انگریز حاکم کا تھا اسی کو کامیابی ہوئی۔اسی سے سبق ملتا ہے کہ خدا کے یہاں ایسی دعا ہرگز نہ کرنی چاہیئے جس میں پورا بھروسہ اللہ پر نہ ہو۔کثرت پر تکبر نہ کرو فرمایا۔اپنی کثرت پر تکبر نہ کرو۔حنین کے واقعہ سے سبق لو کہ انبیاء کی جماعت پر بھی ابتلا آتے ہیں۔عمدہ تعلیم فرمایا۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب رات کو سونے لگو تو بسترے کو خوب جھاڑو۔کیسی عمدہ تعلیم ہے۔بڑی بڑی خرابیوں کا سبب فرمایا۔خوش خوراک ہونا اور خوش پوشاک ہونا اور پھر آپ محنت نہ کرنا بڑی بڑی خرابیوں کا باعث ہوجاتا ہے۔اس سے بچنا چاہیئے اور برابر محنت سے کام کرنا چاہیئے۔مسلمانوں میں قرآن کریم پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کا فقدان فرمایا۔مجھے درد ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے قرآن کریم کو چھوڑ دیا ہے اور جو پڑھتے ہیں وہ بھی سمجھتے نہیں۔کیسے افسوس کی بات ہے کہ اپنے کسی دوست کا خط ہو تو بلاسمجھے ہوئے چین نہیں پکڑتے۔مگر قرآن کریم جو اللہ کا فرمان ہے اور نبیوں کے سردارؐ کے ذریعہ سے آتا ہے اس کو سمجھ کر نہیں پڑھتے۔اور بھی زیادہ افسوس ہے کہ ہر زبان میں قرآن کریم کے ترجمے کئی کئی موجود ہیں مگر نہیں پڑھتے اور سمجھ کر نہیں عمل کرتے۔دنیوی معاملات میں اکثر بڑے چالاک ہیں مگر نہیں چالاک ہیں تو قرآن کریم کے سمجھنے میں۔اعلیٰ درجہ کی دعا فرمایا۔قرآن کریم کے سامنے کسی مذہب والے کو بولنے کی طاقت نہیں۔میں نے قرآن کریم کو لے کر کل مذاہب والوں سے بحث کی ہے مگر کوئی مقابلہ میں بول نہیں سکا ہے۔ایک برہمو سے میں نے پوچھا کہ تمہارے مذہب کی کیا خوبی ہے؟ اس نے کہا کہ خوبی یہ ہے کہ ہم ہر مذہب سے عمدہ بات لے لیتے ہیں۔میں نے کہا کہ سب سے عمدہ بات تمہارے مذہب میں کیا ہے؟ اس نے