ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 468
ھوالاوّل وھوالاخرکے معنی فرمایا۔(الحدید:۴) کے معنے یہ ہیں کہ جیسا کہ ایک مخلوق اپنی ابتدا میں اس کا (یعنی اللہ کا) محتاج ہے۔ویسا ہی بقا و انتہا میں بھی اس کا محتاج ہے۔یہ معنے غلط ہیں کہ وہ (یعنی اللہ) مخلوق کے پہلے تھا اور جب کل مخلوق فنا ہوجائے گی تب وہی ہوگا۔اسی سے تو جنت کی نعماء کی حقیقت فانی ہی رہ جاتی ہے۔اک مرجع خواص یہی قادیاں ہوا فرمایا۔ہمارے مقابلہ میں مخالفوں نے ناخنوں تک زور لگائے۔پھر دیکھتے ہو اس بستی میں جہاں کوئی دلچسپی نہیں کہاں کہاں کے لوگ جمع کردیئے ہیں اور جمع کررہا ہے۔ابلیس اور شیطان فرمایا۔ابلیس اس کو کہتے ہیں جس کی ذات میں بدی ہو۔پھر جب وہ اپنی بدی دوسروں تک پہنچاتا ہے تو اس کا نام شیطان ہوتا ہے۔قرآن کریم میں جہاں کہیں یہ دونوں لفظ آئے ہیں انہیں دو خصوصیتوں کے لحاظ سے آئے ہیں۔مصیبت بڑے بڑے فضلوں کا باعث ہوجاتی ہے فرمایا کہ حضرت صاحب سے میں نے مجاہدہ کے لیے پوچھا تو کہا کہ فصل الخطاب لکھو۔پھر پوچھا تو فرمایا کہ تصدیق براہین احمدیہ لکھو۔پھر پوچھا تو فرمایا کہ ایک کوڑھی کو اپنے مکان میں رکھ کر علاج کرو۔وہ مریض بھی بڑا ہی نیک انسان تھا۔اس نے کہا کہ میرا علاج نہ کرو کیونکہ جب تک مجھ کو مرض ہے اس وقت تک تنہائی میسر ہے اور خدا سے دعا کرنے کے لیے جوش پیدا ہوتا ہے۔مگر میں نے کہا میں بھی مجبور ہوں کیونکہ میرے امام کا حکم ہے۔حقیقت حال یہ ہے کہ مصیبت بھی بڑے بڑے فضلوں کا باعث ہوجاتی ہے۔دعا میں پورا بھروسہ اللہ پر ہونا چاہیئے فرمایا۔میری خالہ کے دوترے کا مقدمہ تھا۔اس نے مجھے دعا کے لیے کہا کہ دعا فرمائیے کہ مقدمہ کسی انگریز کے اجلاس میں پیش ہو۔ہندوستانی حاکم اکثر رشوت خوار ہوتے ہیں۔میں نے بہت کہا کہ ایسی دعا نہ کراؤ بلکہ یہ دعا کراؤ کہ خدا مدد کرے۔مگر اس نے نہ مانا۔خدا کی شان کہ انگریز ہی کے اجلاس میں مقدمہ پیش ہوگیا۔فریق ثانی نے کسی رئیس سے