ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 467
سنایا جاتا ہے۔قرآن پاک جس وقت سنایا جائے بہتر ہے اور بالخصوص صبح کا وقت پچھلا حصہ شب کا بہت ہی مناسب ہے۔لیکن یہاں ایک صاحب نے یہ دریافت کیا کہ کیا تراویح کے قائم مقام یہ نماز ہے۔اگر ایسا ہے تو معمول کے یہ خلاف کیوں ہے؟ جواب۔فرمایا۔تین روز میں نبی کریم نے تہجد میں قرآن سنایا ہے اور ابی ابن کعب نے مسجد نبوی میں عشاء کے بعد قرآن سنایا ہے۔میں حیران ہوا ہوں کہ یہ دونوں تعامل کے کس طرح خلاف ہوئے۔ہر دو وقت جائز ہے۔۸ رکعت یا ۲۰ رکعت ہر دو جائز ہے۔(البدر جلد۱۰ نمبر۵۰ مؤرخہ ۲۶ ؍اکتوبر ۱۹۱۱ء صفحہ۳،۴) سنّتِ رسولؐ فرمایا۔لوگ جو کہتے ہیں کہ سنّت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ضرورت نہیں ہے صرف قرآن کریم کافی ہے وہ غلط ہے۔مثلاً صرف نماز کو ہی لے لو تو اگر سنّت رسول کے لحاظ سے اس کی خاص نوعیت نہ سمجھی جائے تو عربوں کی نماز تو (الانفال:۳۶) صرف تالیاں لگانی اور سیٹیاں بجانی ہی تھی جس کا ذکر خود قرآن کریم میں ہے۔پس عربی لغت کی رو سے تو وہی سیٹیاں بجانی اور تالیاں لگانی ہی نماز ہوگی۔اللہ کا کوئی خلیفہ نہیں فرمایا کہ آدم خلیفۃ اللہ یہ غلط ہے۔قرآن کریم میں کہیں ایسا نہیںآیا۔اللہ تعالیٰ کا کوئی خلیفہ (جانشین) نہیں ہوسکتا۔ریا کی جائز صورت فرمایا۔ریا بھی ایک رنگ میں جائز ہوتا ہے۔مثلاً حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر نماز پڑھ کر دکھلائی کہ یوں نماز پڑھی جاتی ہے تا کہ سب دیکھ لیں مطلب یہ کہ بہت نیک ہو۔انسان دو چیزوں سے مرکب ہے فرمایا۔انسان دو چیزوں سے مرکب ہے۔ایک وہ جن میں دخل انسانی کچھ بھی نہیں۔دوسرے وہ چیز انسان کا تصرف ہے۔شریعت اسی حصہ کے لیے ہے جس پر انسانی تصرف ہے۔مثلاً ایک زبان ہی کو لو کہ اس میں دو قوتیں ہیں۔ایک تو ذائقہ دریافت کرنے کی دوسرے بولنے کی۔شریعت میں یہ نہ ہوگا کہ زبان سے نمک کو میٹھا ثابت کرو۔بلکہ یہ ہوگا کہ جھوٹ مت بولو۔گالی مت دو۔