ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 456 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 456

لیے کس قدر سنبھل کر دینا چاہئے۔لوگ نیک تبدیلی نہیں کرتے فرمایا۔تفسیروں میں جہاں طاعون کا ذکر ہے ستر ہزار موتیں بڑی سمجھی جاتی ہیں۔لیکن اب تو ہرسال لاکھوں آدمی اس سے مرتے ہیں۔مگر جب ذرا افاقہ ہوتا ہے لوگ اپنے میں کوئی تبدیلی نہیں کرتے۔جو مشرک ہیں وہ شرک پر جمے ہیں۔جو چور ہیں وہ چوری سے نہیں ڈرتے۔جو دغاباز ہیں وہ دغابازی پر قائم۔جو تجارت جھوٹ پر چلاتے ہیں وہ اسی اصل پر مستحکم ہیں۔جو ملازم ہیں وہ بدستور ملازمتوں میں سست۔ذکر محدث کے معنے فرمایا۔ذکر محدث کے معنے ہیں نئے نئے پیرایوں میں کلام بھیجتے رہے۔یہی معنے صحیح ہیں کیونکہ کلام کو میں اللہ تعالیٰ کی صفت مانتا ہوں۔اور متکلم خدا کی ذات ہے اور میں قرآن مجید کو مخلوق نہیں مانتا۔فرمایا۔میں نے کوئی منصوبہ باز ایسا نہیں دیکھا کہ اسے خدا کا خوف ہو اور موت یاد ہو۔قرآن مجید کا بڑا مقصد فرمایا۔قرآن مجید تمہیں مومن بنانا چاہتا ہے۔تمہارے دلوں کی غفلت دور کرنے کے لیے تمہیں اخلاق فاضلہ سکھانے کے لیے، تم میں خشیۃ اللہ پیدا کرنے کے لیے زیادہ آیا ہے۔دیکھ لو حج، زکوٰۃ، روزہ وغیرہ کے ایک سو پچاس حکموں سے زیادہ نہیں۔رکوع بہ رکوع اخلاق کی سنوار چاہتا ہے۔پس یہ کہنا غلطی ہے کہ پنجگانہ نماز پڑھتے ہیں اور کیا چاہیئے۔افسوس مسلمانوں نے قرآن کے اس حصہ کو جو اخلاق کے متعلق ہے چھوڑ رکھا ہے۔بڑا بننے کا طریق فرمایا۔میری یہ حالت ہے کہ بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں۔سجدہ کرنا مشکل۔ایک دن خطبہ لمبا پڑھا تو اب تک پٹھے میں درد سے آرام نہیں آیا۔اور یوں بھی اب عمر کا تقاضا ہے۔موت کا وقت قریب ہے۔قریب کیا فتویٰ لگ چکا ہے۔میں تمہیں کھول کھول کر احکام الٰہی سناتا رہتا ہوں۔اب بھی یہ کہہ کر سبکدوش ہوتا ہوں کہ تم چالاکیوں سے، سستیوں سے، جھوٹوں سے، فریبوں سے، بدکاریوں سے، جھوٹی ترکیبوں سے بڑے آدمی نہیں بن سکتے بلکہ بڑا بننے کا ایک ہی طریق ہے اور وہ ہے۔قرآن مجید پر عمل!