ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 455 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 455

؍ اگست ۱۹۱۱ء پرانی رسوم فرمایا۔ہمارے ملک میں پرانی رسوم کو خوب مضبوط رکھا گیا ہے۔سامری کو یہ ذلت کی سزا دی گئی تھی کہ وہ جب بازاروں میں چلے تو(طٰہٰ:۹۸)کہتا پھرے مجھے کوئی نہ چھوئے۔اس ملک میں چوہڑے، مینگھ، بٹوال، دکن کے ملک میں اڈھیڑ بھنگی جب کسی گھمسان یا بازار میں چلتے ہیں تو پوش پوش کہتے جاتے ہیں۔گویا اپنی ذلت کا خود اقرار کرتے ہیں۔ان کے کسی بڑے کو یہ سزا دی گئی ہے تو اب قوم میںچلی آتی ہے۔پھر رفتہ رفتہ دورِ زمانہ سے یہ ذلت کی بات عزت کی بھی سمجھنے لگے۔ہندو مسلمانوں کو حقارت سے دیکھتے ہیں اور لا مساس کہتے ہوئے چلتے ہیں حالانکہ ذلت ان کی ہے۔کسی کو اللہ کہنے کے معنے فرمایا۔قبر پر طواف، سجدہ، کسی بزرگ سے التجا، کسی کو اللہ کہنے کے یہی معنے ہیں۔اعمال بد کی اصلاح فرمایا۔خدا تمہیں حسن ظن دے۔اعمال بد کی اصلاح کرکے خدا کے ہوجاؤ۔۱۵؍ اگست ۱۹۱۱ء حکومت پر غرور فرمایا۔چوبیس ہزار میل زمین کا محیط ہے۔کوئی ایسا بادشاہ نہیں گزرا جس کا قبضہ سب پر ہوا ہو۔پس تھوڑی سی حکومت پر انسان اتنا غرہ کیا کریں۔مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ فرمایا۔قرآن مجید ایسی پاک کتاب مسلمانوں کے گھروں میں ہو اور پھر جرائم پیشہ بھی انہی میں سے زیادہ ہوں تو کیسے افسوس اور قلق کی بات ہے۔۱۶؍ اگست ۱۹۱۱ء حساب کے لیے چوکس رہو فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(الانبیاء:۲) جس شخص یا قوم یا جماعت کا حساب ہونا ہوتا ہے وہ چوکس رہتی ہے۔پس آدمیوں کو اس حساب کے