ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 451
حضرت موسیٰ کے ہاتھ میں تھا۔علماء کے لیے سبق فرمایا۔اس زمانے کے علماء (طٰہٰ:۷۱) سے سبق لیں کہ جب حق ظاہر ہوجائے تو مان لیں۔مگر میں نے تو ناقص العلم طالب علموں کو بھی دیکھا ہے کہ وہ اپنی بات پر اڑے رہتے ہیں اور نہیں مانتے۔مولوی کہلانے کی خوشی جب میں رامپور تحصیل علم کے لیے گیا تو میرے دل پر ہندوستانیوں کے علم کا بہت رعب تھا۔ایک دفعہ شرح جامی کے ایک فقرہ پر بحث ہورہی تھی۔میری سمجھ میں ایک جواب آیا تو میں نے پہلے سوال کی تقریر کی پھر اس کا جواب دیا۔اس پر سب لوگ کھل کھلا کر ہنس پڑے۔مجھے اس بات کی تلاش تھی کہ کسی سبب سے بڑے عالم کا پتہ لگ جائے۔اس واسطے میں نے کہا جو آپ کا بڑا عالم ہے اس کے پاس محاکمہ کرالو۔چنانچہ وہ ایک عالم کے پاس گئے۔وہاں جاکر میں نے تمام معاملہ عرض کیا تو انہوں نے میری تصدیق کی اور کہا کہ مولوی صاحب آپ کا جواب بالکل صحیح ہے۔بس اس دن صرف مجھے مولوی کہلانے کی خوشی ہوئی کہ پچھلا پڑھا ہوا صحیح ہوگیا۔حق بات پر مباحثہ مت کرو فرمایا۔مسلمانوں کے علماء کا مذاق ایسا خراب ہورہا ہے کہ وہ کسی کی بات کو ماننا اپنی کسر شان سمجھتے ہیں۔ان کی کتابیں دیکھ جاؤ۔اِنْ قُلْتَ فَاَقُوْلُ۔اِعْتَرَضَ عَلَیْہِ۔رَدَّ عَلَیْہِ۔فِیْہِ سے پُر ہیں۔میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ جب حق بات ہو تو اسے فوراً مان لو اور اس پر مباحثہ مت کرو۔نصائح اور دعا فرمایا۔اللہ تعالیٰ تم کو پاک کرے۔تم گالیاں زبان پر مت لاؤ۔غضب میں نہ آؤ۔نہ حرص کرو۔ناعاقبت اندیشی سے ڈرو۔میں دعا کرتا ہوں تمہیں ایمان نصیب ہو۔عمل صالح کرو۔جنت عدن میں داخل اور خدا کے حضور مومن بن کے جاؤ۔۱۱؍اگست ۱۹۱۱ء ظالم کی پکڑ فرمایا۔جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو خدا تعالیٰ پکڑلیتا ہے۔اس میں کسی فرعون کی