ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 44
بیسواں، چہلم یا کہیں گیارہویں کی روٹی آگے رکھ کر کچھ سورتیں پڑھ کر ختم دینا پڑتا ہے۔ہر وقت اس کے بدعت ہونے کا ذکر تو کیا جاتا ہے مگر بہت مدت کی عادت چھوڑنا مشکل ہے۔مگر مجھے اس کام سے بہت کراہت آتی ہے دل میں بہت جوش آتا ہے کہ ان کو کہا جاوے کہ اگر مجھ سے قضا کرانی ہے تو روٹی پر ختم کرانا اور جو جو کچھ بدعات ہیں چھو ڑ دو تو میں قضا کرتا ہوں ورنہ تم جس کو چاہو مقرر کر لو مجھ سے یہ کام نہیں ہوتا۔پھر سوچتا ہوں کہ کہیں یہ بات گناہ بھی نہ ہو کہ تم نے بآ ہستگی ان کو سمجھانا تھا شاید وہ مان جاتے۔اب اس بات کو حضور کے حکم پر چھوڑتا ہوں جس طرح حضور حکم فرما ویں گے اسی طرح عمل میں لاؤں گا اور بندہ کو کچھ پیداواری کا خیال نہیں کیونکہ فصل پر دو تین من دانے ہوتے ہیں۔اللہ صاحب روزی دینے والا ہے۔فقط حضور کے حکم آنے تک یہ کام کرتا ہوں پھر جیسا حکم ہو عمل میں لائوں گا۔دوسرے حضرت رسول کریم ﷺ تہجد کے نفل پڑھ کر سو جایا کرتے تھے پھر اٹھ کر نفل پڑھا کرتے تھے۔جب میں اپنی حالت دیکھتا ہوں کہ سردی کے موسم میں فرض نماز کو صبح کے وقت وضو کرنا مشکل پڑتا ہے آپ کئی کئی دفعہ اٹھ کر وضو کیا کرتے تھے یا تیمم کیا کرتے تھے۔مجھے نفلوں کو وضو کرنا بہت ہی مشکل ہے اگر حکم ہو تو تیمم کرلیا کروں؟ فر ض نماز کو وضو کیا جاوے۔اگر یہ بات درست ہو تو اس طرح کر لیا کروں یا نہ کیاکروں۔مفصل حکم تحریر فرما ویں۔جواب اس خط کے جواب میں حضرت امیر المومنین نے ارقام فرمایا۔سب سے مقدم ہے کہ آپ لوگوں کو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْل اللّٰہ سکھاویں کہ مسلمان ہو جاویں۔پھر نماز کی تعلیم دو۔پھر زکوٰۃ کی۔پھر روزہ وحج کی۔اسی طرح آہستہ آہستہ سکھانے کا حکم ہے۔آپ ضرور قضاکریں۔سردی اور بڑھاپا، پھر تہجد میں آپ تیمم کر لیا کریں۔میت کو ثواب پہنچتا ہے۔باقی غلطیاں بتدریج نکل جاویں گی۔