ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 446 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 446

؍اگست ۱۹۱۱ء دو راہیں، صدق یا افتراء ایک غیر احمدی کا خط پیش ہوا کہ ’’مجھے آپ کے میموریل جمعہ کے ساتھ اتفاق ہے۔میں اپنے خیال کے مطابق کسی مسیح کی آمد کا منتظر نہیں ہوں اور نہ کسی کی ضرورت ہے اور نہ خلیفۃ المسیح کی ضرورت ہے البتہ نیکوکار خدا پرست رہبروں کی ہر زمانے میں ضرورت ہے اور مرزا صاحب مرحوم اور جناب کی مثال جتنے بزرگ دنیا میں پیدا ہوں کم ہے۔‘‘ فرمایا۔یہ مسئلہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے فقرات بولنے والے لوگ کیا مطلب اپنے الفاظ کا رکھتے ہیں۔مرزا صاحب کا دعویٰ تھا کہ میں مسیح ہوں مہدی ہوں۔خدا مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے۔وہ برابر اپنے الہام سناتے رہے۔اب یا تو ایسا شخص اپنے دعوے میں سچا ہے اور اس قابل ہے کہ اسے مان لیا جائے اور یا وہ خدا پر افتراء کرتا ہے۔اور قرآن شریف میں لکھا ہے کہ مفتری سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔راہیں تو دو ہی ہیں۔معلوم نہیں یہ تیسری راہ کہاں سے لوگوں نے فرض کرلی ہے۔۶؍اگست ۱۹۱۱ء روپے کی حرص کو چھوڑو فرمایا۔انسان میں روپیہ کی خواہش کم نہیں ہوتی ہر وقت روپیہ چاہتا ہے۔میں نے ایک رئیس کو دیکھا کہ اسے کیمیاگری کا شوق تھا۔چاہتا تھا کہ سونا چاندی بنالے۔جب میں نے اسے بہت سمجھایا کہ یہ لغو بات ہے اور بدلائل اسے قائل کرکے اس نامعقول حرکت سے باز رکھنے کی کوشش کی اور اسے کوئی جواب نہ آیا تو کہنے لگا۔اچھا مولوی صاحب میں اس خیال پر پچانوے ہزار روپیہ خرچ کرچکا ہوں اب تو میں بہت تجربہ کار ہوگیا ہوں اور نسخوں کی حقیقت سمجھنے لگا ہوں۔آپ مجھے پانچ ہزار روپیہ اور خرچ کرلینے دیں لاکھ تو پورا ہوجائے پھر دیکھا جائے گا۔جن لوگوں کے دلوں میں روپے کی حرص ہے وہ حرص کبھی کم نہیںہوتی۔مسلمان محنتی نہیں فرمایا۔آج کل کے مسلمان تو یہ چاہتے ہیں کہ کام کاج کچھ نہ کریں، محنت مشقت کوئی نہ اٹھائیں اور پھر کھانا پینا بھی اچھا ہو اور کپڑا بھی عمدہ پہننے کو مل جائے۔یہ کیونکر ہوسکتا