ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 442
۔(ھود: ۸۵تا۸۷)اور ہم نے مدین کی طرف ان کے ہم قوم بھائی شعیب کو پیغمبر بناکر بھیجا۔انہوں نے ان سے کہا۔بھائیو!خدا ہی کی عبادت کرو۔اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور ماپ اور تول میں کمی نہ کیا کرو۔میں تم کو خوشحال دیکھتا ہوں (تو تم کو ماپ تول میں کمی کرنے کی کیا ضرورت ہے)اور (اس پر بھی اس حرکت سے باز نہ آؤ گے تو) مجھ کو تمہاری نسبت عذاب عام کے دن کا اندیشہ ہے جو تم سب کو آگھیرے گا۔اور بھائیو! ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور ملک میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔اگر تم ایمان رکھتے ہو تو اللہ دیا جو کچھ تجارت میں بچ رہے وہی تمہارے لئے اچھا ہے اور میں تمہارا نگہبان تو ہوں نہیں (کہ ہر ایک کی ماپ تول کو دیکھتا پھرا کروں)۔مدینہ منورہ کے شمال و مغرب کی طرف ایک شہر واقع تھا جس کا نام مدین تھا۔وہاں کے نبی شعیب علیہ السلام تھے۔انہوں نے اپنی قوم کو پہلے توحید اور خدا کی عبادت کا وعظ فرمایا۔قوموں میں ایک مرض ہوتا ہے کہ خدا کی عبادت اور طاعت سے نفرت کرتے ہیں۔اس بنا پر ہر نبی کی اوّل دعوت یہی ہوتی ہے کہ اُعْبُدُوا اللّٰہَ۔بعد توحید اور عبادت و طاعت الٰہی کا وعظ کہنے کے شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو خاص مرض کی طرف متوجہ کیا جو ان میں پھیل گیا تھا کہ وہ ماپ اور تول میں خیانت کرتے تھے اور انہیں تاکید کی کہ وفاداری اور فرمانبرداری سے جو نفع تم کو بچے وہ تمہارے لئے خیر و برکت کا موجب ہوگا۔حقیقی اور اصلی واعظ سچا خیر خواہ، حقیقی ناصح اور اصلی واعظ وہ ہوتا ہے جو اپنی قوم کو ان کے عیوب پر مطلع کرے جس طرح حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو ان کے نقص بتائے۔برتن وہاں سے ٹکرایا جاتا ہے جہاں کمزوری کا شبہ ہو۔اسی طرح مومن کو ابتلاء اس بات میں آتا ہے جس میں وہ کمزور ہو۔غور کرو۔حضرت شعیب ؑ کی تعلیم حضرت شعیب علیہ السلام کی تعلیم اپنی قوم کو یہ تھی کہ ۱۔خدا کی عبادت کریں۔