ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 436
زندہ دیوار میں چنوا دیئے گئے۔پھر ہسپانیہ میں کتنی بڑی زبردست سلطنت تھی مگرجب سستی،تکبر، بڑائی اور حرص آئی تو نام و نشان نہ رہا۔مسلمانوں کی درخواست تھی کہ ہمیں کتابیں تو لے جانے دو۔انتخاب کی اجازت ہوئی جب تین لاکھ کتابوں کا انتخاب کر کے جہاز میں لاد چکے تو وہ جہاز ڈبو دیا گیا۔اب مسلمانوں کے سامنے ان باتوں کا ذکر تقریباً ایسا ہے جیسے کسی اندھے کے آگے کسی خوشنما پھول کی تعریف کی جائے۔ہاں یوں سمجھ میں آسکتا ہے کہ کوئی تمہیں اپنے گھر سے نکال دے پھر دل پر کیا گذرتی ہے۔یہ مصیبت کا زمانہ مسلمانوں پر کیوں آیا۔محض اپنی ہی غفلت وکاہلی اور خدا کے احکام کی نافرمانی سے۔خدا تمہیں قرآن شریف کا سچا متبع بنائے۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا متبع بنائے۔دنیا کی ہواو ہوس تمہیں خدا سے غافل نہ کردے۔تمہارے دل نرم ہوں اور اس غیظ و غضب سے بچو جو انسان کو اندھا کر کے جہنم میں لے جاتا ہے۔تمہارے دل گندے نہ ہوں تمہاری زبان پر گندے کلمات نہ آویں۔تم ایسے نہ بنو کہ تجارت کی شراکت میں حساب کتاب کی پرواہ نہ رکھو یا سود لو۔اللہ سے ڈرو۔۲۰؍جولائی۱۹۱۱ ء قرآن مجید پر عمل کا نتیجہ فرمایا۔حیاۃ طیبہ قرآن مجیدسے حاصل ہوتی ہے اس لئے اسے خدا نے روح فرمایا ہے۔اگر تم قرآن مجید پر عمل کرو گے تو ایک زندہ قوم بن جاؤ گے۔ورنہ مردہ ہو۔قرآن مجید کی مثل فرمایا۔ایک شخص عالم فاضل کو کہا گیا کہ قرآن مجید کی مثل ایک سورۃ بنائے اس نے چھ ماہ کی مہلت مانگی اور معارضہ کے لئے سورۃ (الکوثر:۲)کو انتخاب کیا۔چھ ماہ کے بعد دیکھا گیا کہ اپنے ارد گرد کاغذوں کے ڈھیر لگائے بیٹھا ہے اور کہتا ہے کہ صرف ایک آیت کا جواب بھی نہیں دے سکا۔اخلا ق سیئہ او ر ان سے بچنے کا طریق فرمایا۔میں دیکھتا ہوں آپس میں کینے، بغض، خود پسندی، ناجائز طور سے روپیہ کمانا، سستی، کاہلی، حرص، دو شخصوں کو آپس میں لڑوا دینا ، تجارت میں