ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 435 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 435

گدھا بھیمیرے کام سے غافل و سست ہوتا ہے۔جنت کی حوروں سے طرز عمل فرمایا۔مولوی فضل الرحمٰن صاحب گنج مراد آبادی کا ذکر ہے۔کسی نے ان سے پوچھا کہ جنت میں حوریں ہو ں گی تو آپ کا کیا طرز عمل ہوگا۔فرمایا۔میں کہوں گا کہ جاؤ بیبیو قرآن پڑھو۔یہ اپنا اپنا ذوق ہے۔احسن طریق کے حصول کے لئے ضروری امور فرمایا۔جب انسان اپنی اصلاح کرے تو ضروری ہے کہ دوسروں تک تمام حق پہنچائے۔وہ بھی لٹھ ماروں کی طرح نہیں بلکہ حکمت اور احسن طریق سے۔(حٰمٓ السجدۃ :۳۵)کا حصول موقوف ہے اس امر پر کہ انسان مناظرات کی خود خواہش نہ کرے دعا سے بہت کام لے اور خدا کے حضور نہایت منکسر اور متواضع ہو۔مناظرہ سے کسی انسان پر برتری وبڑائی مقصود نہ ہو بلکہ محض للہ احقاق حق مطلوب ہو۔اللہ کی معیّت فرمایا۔مقدمات میں لوگوں کو کئی سہارے ہوتے ہیں۔کوئی کہتا ہے ہمارا مجسٹریٹ ہے۔کوئی کہتا ہے ہمارا وکیل ہے۔مگر اللہ کی معیت ان کے ساتھ ہے جو متقی اور محسن ہوں۔۱۱؍جولائی ۱۹۱۱ء مسلمانوں کا زوال اور اس کے اسباب فرمایا۔عباسیہ سلطنت ایک وقت بڑے زور پر تھی۔محمود غزنوی جو بڑا فاتح اور عظیم الشان بادشاہ تھا ان کی سلطنت کے خلیفہ سے یمین الدولہ کا خطاب موجب عزّت و افتخار سمجھا۔ایک دفعہ خلیفہ بغداد اس پر ناراض ہوا۔محمود نے لکھ بھیجا کہ میرے پاس اتنے ہزار ہاتھی ہے ہم فوج کشی کر سکتے ہیں۔جواب میں خلیفہ نے ایک کاغذ پر الم الم لکھ بھیجا۔محمود کو اللہ نے عقل وفراست بخشی تھی وہ سمجھ گیاکہ اشارہ ہے (الفیل :۲،۳) کی طرف۔پھر جب مسلمانوں میں نافرمانی، کاہلی، سستی بڑھی دنیا میں منہمک ہوگئے تو باوجودیکہ پانچ لاکھ فوج بغداد کے اندر موجود تھی ہلاکو نے ان کا نام و نشان مٹا دیا اور ہزار کے قریب ایسے لوگ جن پر مدعی سلطنت ہونے کا گمان ہو سکتا تھا