ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 432 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 432

؍جولائی۱۹۱۱ ء مسجد حرام میں مشرکین کے جانے کی ممانعت کی وجوہ اس سوال کے جواب میں کہ مسجد حرام میں مشرکین کا آنا کیوں منع کیا گیا۔فرمایا۔اس سوال کے پوچھنے والا یہودی یا عیسائی ہے تو اس کے لئے یہ جواب کافی ہے کہ سات گاؤں تھے جو حضرت موسیٰ نے ایسے ٹھہرائے کہ ان میں کسی قوم کے آدمی کو داخل ہونے کی اجازت نہ تھی۔دوسرا جواب اللہ تعالیٰ اسی رنگ میں سزا دیتا ہے جس میں نافرمانی ہو۔مثلاً ایک شخص کے پاس ایک گھوڑی ہے۔پڑوسی چور ہے وہ اسے چرا لیتا ہے مگر اسے چرا کر وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا بلکہ دیکھ بھی نہیں سکتا کیونکہ سو کوس کے اندر تو رکھ ہی نہیں سکتا۔گویا جس مطلب کے لئے اس نے چوری کی اس سے محروم رہ گیا۔ایسا ہی زنا سے رونگٹا رونگٹا فائدہ اٹھاتا ہے تو آتشک سے بال بال دکھ اُٹھا تا ہے۔مشرکین عرب کا جرم تھا کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد حرام میں آنے سے روکا (البقرۃ :۱۱۵) تو اب سزا بھی اسی رنگ میں دی گئی یعنی مشرکـون مسجد حرام کے نزدیک پھٹکنے بھی نہ پائیں۔تیسرا جواب یہ ہے کہ جب کوئی مذہب پیدا ہوتا ہے تو اس کی ابتدائی حالت میں بڑے بڑے مخلص لوگ ہی شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ وقت بڑی مصیبتوں کا ہوتا ہے مومن کے جان و مال پر ابتلا آتا ہے اور بعض اوقات تو اس بستی میں رہنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ مخلص لوگ اس صبر کے اجر میں بادشاہ بنائے جاتے ہیں۔اس وقت منافق اور گندے لوگ بھی طرح طرح کے حیلوں سے بیچ میں آگھستے ہیں اور دین کی اکثر باتوں کو کچھ کا کچھ بنا دیتے ہیں مثال کے طور پر نصاریٰ کو دیکھو کہ اب اصل انجیل تک ان کے پاس نہیں۔ایک طرف تو علم طبقات الارض وغیرہ میں یہاں تک ترقی کی ہے کہ سب زمین کو چھان ڈالا۔دوسری طرف دینی امور کا یہ حال کہ اپنے مذہب کی کتاب کا پتہ نہیں۔ہندو یہ بتا سکتے کہ رام چندرجی اور کرشن مہاراج کا طرز عبادت کیا تھا۔