ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 433 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 433

غرض ایک وقت مذہب پر آتا ہے کہ اس کے پیروؤں میں دنیا پرستی بڑھ جاتی ہے اور اصل مذہب کی طرف توجہ کم ہو جاتی ہے تو قوم خدا کے احکام کو بھول جاتی ہے اور غیر قوموں کے اثر سے متأثر ہو کر انہیں کا رسم و رواج اختیار کر کے بعض اوقات ان میں مل جاتی ہے۔اس خطرے سے محفوظ رکھنے کے لئے ضرور تھا کہ مکہ معظمہ غیر قوموں کے دخل سے بالکل پاک رہے تا دین بھی محفوظ رہے۔اور اگرچہ بعض قسم کی تبدیلیاں پیدا ہونی ایک قدرتی بات ہے مگر پھر بھی دوسری قوموں سے مسلمان نسبتاً بہت محفوظ رہے۔عیسائیوں کے دو فرقوں کا طریق عبادت بھی نہیں ملتا۔مسلمانوں میں امر مشترک تو ہے خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں۔والسلام ۹؍جولائی۱۹۱۱ء کمانے کے لئے تین اہم امور فرمایا۔کمانے میں تین باتیں نہ ہوں تو وہ کمانا غفلت کا موجب ہوگا۔حلال ہو۔یہ نہ سمجھ لو کہ چوہڑے ہی حرام خور ہوتے ہیں بلکہ جو چوری کا مال کھاتا ہے وہ بھی حرام خور ہے۔جو جعلسازی اور دھوکے سے مال جمع کرتا ہے وہ بھی حرام خور ہے۔جو کسی دوکان میں مال شراکت رکھتا ہے اور اس کا کوئی حساب وکتاب نہیں وہ بھی حرام خور ہے۔جو اپنے منصبی فرض کو عمدگی سے ادا نہیں کرتا اور ترقی تنخواہ کے لئے ہوشیار ہے وہ بھی حرام خور ہے۔غرض جو بالباطل مال کھانے والے ہیں وہ سب حرام خور ہیں۔دوم۔یہ کہ کھانا طیب ہو۔یعنی وہ کھائے جو موجب ضرر نہ ہو مثلاً کھانسی والا اگر تُرش چیز کھاتا ہے تو وہ طیب نہیں کھاتا۔فالج والا اگر سردائیاں پیتا ہے تو طیب کا استعمال نہیںکرتا۔غرض جو کھاؤ پہلے دیکھ لو کہ بدن کے لئے مفید و پسندیدہ ہے یا نہیں۔سوم۔لقمہ اٹھاتے وقت اللہ کا نام لے اور شکر ادا کرے۔روٹی پکانا اور تنور سے نکالنا میری جیسی طبیعت کے انسان کے لئے تو ایک قسم کا معجزہ ہے۔تین دفعہ آنا پڑتا ہے اور میں آگ سے ایسا نفور کہ سردی میں بھی تاپ نہیں سکتا۔لوگ حلال و حرام کا خیال نہیں کرتے۔ایک عورت نے میرے سامنے ذکر کیا کہ ہم شادی