ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 415 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 415

وسیع ہوجاتا ہے اور جو باتیں پہاڑوں سے زیادہ سخت اور عظیم ہوتی ہیں وہ اس کے اندر آجاتی ہیں۔سوال ہشتم:۔نزد بعض فقیر دو قدم۔و نزد بعض سہ قدم۔و نزد حضرت مجدد ہفت قدم۔جواب۔دو قدم وصول الی اللہ تو یوں ہے کہ فناء نفس ہوگیا۔پھر فناء عن المخلوق اور اللہ کو مقدم کرلیا۔سہ قدم یوں کہ پھر عبادت اتباع کے رنگ میںنہ رہے بلکہ لذت کا خیال بھی نہ ہو۔ہفت قدم یہ کہ پانچ لطائف، سلطان الاذکار،مراقبہ معیت کے بعد جذب الٰہی پیدا ہوجاتا ہے۔اخیر میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ (العنکبوت:۵۲) پس آپ ایسی باتوں میں نہ پڑیں جو انسان میں کوئی روحانی ترقی پیدا نہیں کرسکتیں۔بات وہی حق اور پختہ ہے جو یا خدا کا کلام ہے یا خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا۔باقی سب ہیچ۔والسلام (البدر جلد۱۰ نمبر۴۰ و ۴۱ مؤرخہ ۳ و ۱۰؍ اگست ۱۹۱۱ء صفحہ ۶،۷) مہاجرین و انصار کے فتاویٰ جمع کرنے کی خواہش حضرت امیر المؤمنین ماشاء اللہ بخیر و عافیت ہیں۔آپ نے ایک دن فرمایا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔(التوبۃ:۱۰۰) اس لیے میں چاہتا ہوں (التوبۃ:۱۰۰) کے فتاویٰ جمع کیے جائیں۔اگر خدا تعالیٰ کسی کو توفیق دے۔(ماخوذ از کالم ’’مدینۃ المسیح‘‘البدر جلد۱۰ نمبر۴۰ و ۴۱ مؤرخہ ۳ و ۱۰؍ اگست ۱۹۱۱ء صفحہ ۱۸) حضرت خلیفۃ المسیح کی رائے رسالہ تاریخ اسلام پر تاریخ اسلام محنت کے ساتھ لکھی گئی ہے اور مصنّف نے عمدگی کے ساتھ کوشش کی ہے کہ صحابہؓ کے اندرونی تعلقات کی خوبی اور پختگی پر روشنی ڈالیں۔اور آپ نے ثابت کیا ہے کہ خلفاء و دیگر صحابہؓ